کارکنان تبلیغ کے لیے مولانا محمد الیاس صاحب کی مفید باتیں اور اہم ہدایاتت |
عوت وتب |
|
دخل نہیں ہے)مجھے بخش دے اور مجھ پر رحم فرما ،بخشنے والا اور رحم کرنے والا یقینا توہی ہے۔ ذراسوچئے حضورﷺنے یہ دعا حضرت ابوبکر صدیق ؓ کو تلقین فرمائی جو اس ساری امت میں اکمل وافضل ہیں اور بالخصوص ان کی نماز خود رسول اللہﷺ کے نزدیک ایسی کامل ہوتی تھی کہ آپ نے ان کو خود امام بنایا، باوجود اس کے ان کو بھی یہ تعلیم فرمایا کہ نماز کے آخر میں اللہ پاک کے حضوراپنی کوتاہی اور عبادت کا حق ادا نہ ہوسکنے کا اعتراف اس طرح کیا کرو ،اور اس طرح محض اس کے فضل وکرم سے مغفرت ورحمت کی درخواست کیا کرو!…پھر کجا ماوشما؟۔ (ملفوظات حضرت مولانامحمد الیاس صاحبؒ ص۲۵ملفوظ نمبر۱۷) فائدہ:رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو نماز کی دعا سکھلائی ،اس سے معلوم ہوا کہ نماز اور دعائیں سکھلانا،یادکرانا،نبیوں والا کام ہے۔ بہت سی حدیثوں میں آیا ہے کہ رسول اللہ صلی اﷲ علیہ وسلم نے مختلف صحابہ کو اذان ، تشہد، استخارہ کی دعا وغیرہ اہتمام سے سکھائیں ، بہتوں کو قرآن پاک سکھایا لہٰذا یہ کام جہاں بھی ہوں گے خواہ مسجد میں یا مکتب اور مدرسہ میں نبیوں والے ہی کام کہلائیں گے۔کلمہ اور نماز کسی اچھے قاری سے درست کراؤ فرمایا:نماز اور کلمہ قاری سے درست کراؤ۔ (ارشادات ومکتوبات حضرت مولانامحمد الیاس صاحبؒص۳۶) فائدہ:حضرت مولانامحمد الیاس صاحبؒکے فرمان کے مطابق دعوت وتبلیغ کا اصل مقصد ایمان کو پختہ کرنا ہے تاکہ ایمان کے پختہ ہونے سے دین کے سارے شعبے اور رسول اللہ ﷺ کا لایا ہوا پورا دین زندہ ہوجائے، خواہ اس کا تعلق عبادات سے ہو ،یا معاملات اور اخلاق ومعاشرت سے ۔ دین کے اہم شعبے عقائدوعبادات سے متعلق حضرت اپنے تمام تبلیغی احباب کو ہدایت فرمارہے ہیں کہ لوگوں کی نماز اور ان کا کلمہ کسی قاری سے درست کراؤ کیونکہ بڑی