کارکنان تبلیغ کے لیے مولانا محمد الیاس صاحب کی مفید باتیں اور اہم ہدایاتت |
عوت وتب |
|
اور فیوض ہندوستان ہی میں نہیں بلکہ عرب و عجم کوسیراب کریں گے، اللہ تعالیٰ تمہیں جزاء خیر دے، میری اس میں دعاء سے ضرور مدد کیجئو، اور میں بھی دعا کرتا ہوں ۔ ( مولانا محمد الیاس صاحبؒ کی دینی دعوت ص:۲۷۰)سارے کام کے ساتھ اپنی فکر اور اپنے اوپر خطرہ فرمایا… مجھے اپنے اوپر استدراج (یعنی اللہ کی طرف سے ڈھیل) کا خوف ہے (جامع ملفوظات فرماتے ہیں ) میں نے عرض کیا کہ یہ خوف عین ایمان ہے (امام حسن بصریؒ کا ارشاد ہے کہ اپنے اوپر نفاق کا خوف مومن ہی کو ہوتا ہے) مگر جوانی میں خوف کا غلبہ اچھا ہے، اور بڑھاپے میں حسن ظن باﷲ اور رجاء کا غلبہ اچھا ہے، فرمایا ہاں صحیح ہے۔ (ملفوظات مولانا محمد الیاس صاحبؒ ص:۶۳-۶۵)اپنی تہی دستی اور بے بضاعتی کا یقین ہی کامیابی ہے فرمایا: اپنی تہی دستی کا یقین ہی کامیابی ہے، کوئی بھی اپنے عمل سے کامیاب نہ ہوگا محض اللہ کے فضل سے کامیاب ہوگا، رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں : لن یدخل الجنۃ أحد بعملہ قالوا: ولا أنت یا رسول اﷲ؟ قال: ولا أنا الا أن یتغمدنی اﷲ برحمتہ۔ (جامع الاصول حدیث :۸۹۔ ۱؍۲۱۲، جمع الفوائد ۱؍۱۰۰، حدیث: ۱۴۵، بالفاظ مختلفہ) حدیث پاک کا مطلب یہ ہے کہ جنت میں کوئی شخص اپنے عمل کی وجہ سے جنت میں نہ جائے گا، صحابہ نے عرض کیا یا رسول اللہ آپ بھی؟ فرمایا ہاں میں اپنے عمل کی وجہ سے نہیں اللہ کے فضل و رحمت سے جاؤں گا۔ یہ حدیث پڑھ کر مولانا خود بھی روئے اور دوسروں کو بھی رُلایا۔ (ملفوظات مولانا محمد الیاس صاحبؒص:۶۰، ملفوظ نمبر:۵۹)