کارکنان تبلیغ کے لیے مولانا محمد الیاس صاحب کی مفید باتیں اور اہم ہدایاتت |
عوت وتب |
|
حُکّام و اہل سیاست کی اصلاح اور ان کو تبلیغ کرنے کا طریقہ فرمایا… جو لوگ گورنمنٹ کے وفادار اور حامی سمجھے جاتے ہیں در حقیقت وہ کسی کے بھی وفادار اور حامی نہیں ہیں ، بلکہ صرف اپنی اغراض کے وفادار ہیں ، البتہ آج چونکہ ان کی وہ دنی (حقیر اور معمولی) اغراض موجودہ گورنمنٹ سے پوری ہوتی ہیں اس لیے وہ ان کے حامی اور وفادار بنے ہوئے ہیں ، لیکن اگر کل ہی کو ان کی اغراض گورنمنٹ کے دشمنوں سے پوری ہونے لگیں تو وہ اسی درجہ میں ان کے بھی حامی اور وفادار ہوجائیں گے، ورنہ حقیقی طور پر تو ایسے غرض پرست لوگ اپنے باپ کے بھی وفا دار نہیں ہوتے، تو ان لوگوں کی اصلاح کا طریقہ یہ نہیں ہے کہ ان کو بُرا بھلا کہاجائے یا بس گورنمنٹ کی مخالفت پر ان کو آمادہ کیا جائے، ان کی اصلی بیماری ’’غرض پرستی‘‘ ہے اور جب تک یہ ان میں موجود رہے گی اگر گورنمنٹ کی حمایت انہوں نے چھوڑ بھی دی تو اپنی اغراض کے لیے وہ کسی اور ایسی طاقت کے ایسے ہی وفادار بنیں گے، اس لیے کرنے کا کام یہ ہے کہ ان میں غرض پرستی کے بجائے خدا پرستی پیدا کی جائے اور اللہ اور اس کے دین کا انہیں سچا وفادار بنانے کی کوشش کی جائے، اس کے بغیر ان کی بیماری کا علاج نہیں ہوسکتا۔ (ملفوظات مولانا محمد الیاس صاحبؒ ص:۲۱، ملفوظ نمبر:۱۱)ہم حکومت اور اقتدار سے کیوں محروم کردئیے گئے؟ اس سوال پر کلام کرتے ہوئے کہ: ’’مسلمانوں کو حکومت واقتدار کیوں نہیں بخشا جاتا؟‘‘ فرمایا: اللہ کے احکام اور اوامر و نواہی کی حفاظت ورعایت جب کہ تم اپنی ذات اور اپنی منزلی زندگی میں نہیں کررہے (جس پر تمہیں اختیار حاصل ہے اور کوئی مجبوری نہیں ہے) تو دنیا کا نظم و نسق کیسے تمہارے حوالہ کردیا جائے۔