کارکنان تبلیغ کے لیے مولانا محمد الیاس صاحب کی مفید باتیں اور اہم ہدایاتت |
عوت وتب |
|
فائدہ: حضرت مولانا محمد الیاس صاحبؒ نے اپنے اس مختصر ارشاد میں تمام دعوتی کام کرنے والوں کو دو باتوں کی ہدایت فرمائی ہے۔ (۱) حق تعالیٰ کی صفات کا نیز مرنے کے بعد پیش آنے والے حالات قبر، حشر و نشر کا مراقبہ ، اورہر وقت حق تعالیٰ کی صفات کو پیش نظر رکھنا مثلاً یہ کہ اللہ تعالیٰ سمیع ، بصیر، خبیر ہے، میری ہر حرکت دیکھ رہا ہے، ہر بات سن رہا ہے، قدیر ہے یعنی اس کی قدرت کا بھی استحضار ہوتاکہ غیر اﷲ کی قدرت و طاقت سے مغلوب و مرعوب نہ ہو، اسی طرح حشر و نشر کا استحضار کہ مرکر ہم کو اپنی سب حرکتوں کا اللہ کے سامنے جواب دینا ہے، اس مراقبہ کا فائدہ یہ ہوگا کہ آدمی کو گناہوں سے بچنے کی توفیق ہوگی۔ اور اعمال صالحہ اختیار کرنے کا جذبہ پیدا ہوگا، پھر اعمال صالحہ کا معیار اور اس کا دستور کیا ہونا چاہئے، اس کے لیے فرمایا: (۲) قرآن شریف کو رہبر بناؤ، خود اللہ کا فرمان ہے اِنّ ہٰذَا القُرْآنَ یَہْدِی الآیۃ، ہُدًی لِّلْمُتَّقِیْن، یہ قرآن رہبر اور ہادی ہے، لیکن قرآن کے ذریعہ رہبری کیسے حاصل ہوگی اس کے لیے فرمایا کہ اس میں اللہ کا جو پیغام بندوں کو دیا گیا ہے، اس پیغام کو سنو، غور کرو، درس تفسیر کے ذریعہ اس پیغام کو سمجھو، حدیث کی روشنی میں اس سے رہنمائی حاصل کرو، اسی درس قرآن کے ذریعہ انبیاء کے واقعات سننے سے ایمان بھی بنے گا اور رہبری بھی حاصل ہوگی۔ زندگی کے جتنے شعبے ہیں عقائد، عبادات، معاملات، معاشرت اخلاق ہر ہر شعبہ سے متعلق قرآن سے رہبری حاصل کرنے کی ضرورت ہے۔ اور یہ رہبری عام حالات میں عام لوگوں کو معتبر علماء کے درسِ قرآن کے ذریعہ یا کسی معتبر تفسیر کے مطالعہ کے ذریعہ سے ہی ہوسکتی ہے، جس کی طرف سے آج لوگوں کو بڑی غفلت ہے۔قرآن پاک کی اہمیت اور اس کے حقوق فرمایا: قرآن کے اندر اللہ تعالیٰ کی صفات اور انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام کے واقعات پر غور کرو …… قرآن پاک کی تلاوت ذکر میں شامل ہے، اس کو محض رضاء