کارکنان تبلیغ کے لیے مولانا محمد الیاس صاحب کی مفید باتیں اور اہم ہدایاتت |
عوت وتب |
|
دارالعلوم دیوبند اور مظاہرعلوم سہارنپور ،دارالعلوم ندوۃ العلماء لکھنؤکے ارباب حل وعقد اور ان کے ذمہ داروں سے شروع ہی سے جو ربط رہا ہے اور ان مدارس کے اکابر علماء وفضلاء نے اس تبلیغی جماعت کی جس حیثیت سے سرپرستی فرمائی اور اب بھی فرمارہے ہیں ، ان سارے روابط اور تعلقات کو پیش نظر رکھتے ہوئے حضرت مفتی صاحب دامت برکاتہم نے اپنے کو جماعت کا ایک فرد اور ذمہ دارہونے کی حیثیت سے تمام اصحاب تبلیغ کو حضرت مولانا محمدالیاس صاحب ؒ کے ان افادات وہدایات کے مطالعہ کرنے اور انہیں کے رہنمائی میں کام کرنے کی نہ صرف ترغیب بلکہ تاکید فرمائی ہے، احقر ناکارہ کی اس معمولی کوشش کی جس قدر حضرت مفتی صاحب دامت برکاتہم نے قدردانی وحوصلہ افزائی فرمائی ہے ہم اس کے نہایت شکر گذار ہیں اللہ تعالیٰ ہی دنیاوآخرت میں ان کو اس کا بہتر صلہ عطافرمائے ۔حضرت مولانا سید محمد سلمان صاحب مظاہری دامت برکاتہم ناظم مظاہر علوم سہارنپور (۴)اسی طرح ہم بہت بہت شکر گذار ہیں مظاہر علوم سہارنپور کے ناظم اعلیٰ جناب مولانا محمد سلمان صاحب مظاہری مدظلہ العالی کے کہ انہوں نے اس سے قبل بھی اس کام کے متعلق احقر کی بھرپور تائید وہمت افزائی فرمائی ،احقر نے دعوت تبلیغ سے متعلق بعض ذمہ دارن مرکز نظام الدین کو خطوط لکھے تھے اور بھیجنے سے قبل حضرت مولانا محمدسلمان صاحب اور دیگر اکابر سے مشورے بھی لئے تھے،حضرت مولانا محمدسلمان صاحب دامت برکاتہم نے ہمارے اس طویل مکتوب کو جوبڑے سائز کے اٹھارہ صفحات پر مشتمل تھا بغور ملاحظہ فرمایا اور لفافہ کی پشت پر یہ لکھ کر واپس کیاکہ’’ پورا پڑھ لیا جزاک اللہ ،اس کو بھیج دیجئے نفعنا اللہ ایانا وایاہم ‘‘ بعد کی ملاقاتوں میں احقر نے عرض کیا کہ احقر نے ابھی صرف چند باتیں لکھی تھیں ابھی بہت سے امور لکھنا باقی ہیں ،حضرت