کارکنان تبلیغ کے لیے مولانا محمد الیاس صاحب کی مفید باتیں اور اہم ہدایاتت |
عوت وتب |
|
باب۷ خلوت و عزلت اور حق تعالیٰ سے مناجات کی ضرورت انبیاء علیہم السلام کی حالت ارشاد فرمایا: انبیاء علیہم السلام پر براہ راست اللہ کی جانب سے امرآئے ہیں ، لیکن مخلوق میں پیش کرنے کی بنا پر ان پر بھی مخلوق کی ظلمت کا اثر ہوتا تھا، اس لیے تنہائیوں میں اللہ کے ذکر کے ذریعہ اس زنگ و ظلمت کو دھوتے تھے۔ (ارشادات و مکتوبات ص:۸۷) فرمایا: انبیاء علیہم السلام باوجودیکہ معصوم اور محفوظ ہیں اور علوم وہدایات براہِ راست حق تعالیٰ سے حاصل کرتے ہیں ، لیکن جب ان تعلیمات و ہدایات کی تبلیغ میں ہر طرح کے لوگوں سے ملنا جلنا اور ان کے پاس آنا جانا ہوتا ہے تو اُن کے مبارک و منور قلوب پر بھی ان عوام الناس کی کدورتوں کا اثر پڑتا ہے، اور پھر تنہائی کے ذکر وعبادت کے ذریعہ وہ اُس گردو غبار کو دھوتے ہیں ۔ فرمایا: سورۂ مزمل میں حضور (صلی اللہ علیہ وسلم) کو قیام لیل (تہجد) کا حکم دیتے ہوئے جو یہ فرمایا گیا ہے کہ ’’اِنًّ لَکَ فِی النَّہَارِ سَبْحًا طَوِیْلًا‘‘ (اے رسول! دن میں تم کو بہت چلنا پھرنا رہتا ہے) تو اس میں اس طرف بھی اشارہ ہے کہ سید الانبیاء صلی اﷲ علیہ وسلم کو بھی دن کی دوڑ دھوپ اور چلت پھرتْ کی وجہ سے رات کی اندھیری اور تنہائی میں یکسوئی کے ساتھ عبادت کی ضرورت تھی، پھر اس آیت سے اگلی آیت میں جو