کارکنان تبلیغ کے لیے مولانا محمد الیاس صاحب کی مفید باتیں اور اہم ہدایاتت |
عوت وتب |
|
کلکٹر صاحب و کمشنر صاحب کو داعی بننے کی تلقین حضرت مولانا محمد الیاس صاحبؒ ایک مکتوب میں تحریر فرماتے ہیں : بندہ نے تو دین کے کام کا ارادہ کررکھا ہے، ہندوستان ہو یا عرب، اس واسطے … جناب کی خدمت میں دو باتیں ضروری (عرض کرنی) ہیں ، غور سے سن لیں ، ایک یہ کہ خاکسار نے حضرت مولانا عبد الرحیم صاحب کی خدمت میں ’’گوڑگانوہ‘‘ کے ڈپٹی کمشنر صاحب جو کہ مسلمان ہیں ، بھیجا، حضرت نے فرمایا مذہبی امور کی پابندی اور فروغ پر اور اس کا خود پابند ہونا، اور ہر طبقہ کو حسب حیثیت توجہ دلانا ہر مسلمان کا اہم ترین فرض ہے اور یہ خیالی رواجی فرائض نہیں بلکہ ایسا فرض ہے جس میں حق تعالیٰ کے یہاں سے سوال ہوگا لہٰذا آپ خود اور دوسرے لوگوں کو جو اس کے اہل ہوں اس پر آمادہ فرمادیں ، سرکاری سب عملہ میں عموماً اور کلکٹر صاحب خصوصاً اس بات پر آمادہ ہوں اور سمجھیں کہ مذہب کی جڑ قرآن ہے کوئی خیالی چیز نہیں ہے، بلکہ مذہب وہ چیز ہے جو حضور (صلی اﷲ علیہ وسلم) آسمان سے لے کر آئے۔ اس آسمانی دین کو اپنی عقل کی کدورت سے خالص رکھتے ہوئے اپنے کو کاربند بناویں اور اس کی ہر ہر چیز کی ترویج کا ارادہ کریں اور ان سب کی جڑ قرآن ہی ہے، اس کا خصوصاً اہتمام کریں ۔ (ارشاد ات ومکتوبات ص:۱۵۰) فائدہ: حضرتؒ نے اپنے اس مکتوب میں کلکٹر صاحب اور ان جیسے سمجھ دار پڑھے لکھے طبقہ مثلاً ڈاکٹر، انجینئر صاحبان اور دیگر عہدیدار احباب کو توجہ دلائی ہے خصوصیت کے ساتھ قرآن شریف کی طرف کہ اس کا اہتمام کریں ، اہتمام کرنے میں دونوں باتیں شامل ہیں ، الفاظ بھی، معانی و مطالب بھی، مطلب یہ کہ اس کے الفاظ کو پڑھنے پڑھانے کا رواج دیں ، اس کی تلاوت کریں ، اور ساتھ ہی اس کے معانی و مطالب کو معلوم کرکے حق تعالیٰ کا پیغام سمجھیں کہ یہی مذہب کی جڑ ہے اور اس کو اپنی زندگی میں