کارکنان تبلیغ کے لیے مولانا محمد الیاس صاحب کی مفید باتیں اور اہم ہدایاتت |
عوت وتب |
|
مرتِّبِ کتاب کی دردمندانہ گذارش بسم اللہ الرحمن الرحیم ۔ الحـمـدلـلـہ رب العـالمیـن والصلوٰہ والسلام علیٰ سیدالمرسلین محمد وعلیٰ آلہٖ واصحابہ اجمعین دعوت وتبلیغ کی خاص انداز پر وہ محنت اور تحریک جس کاآغاز حضرت مولانا محمدالیاس صاحبؒ نے کیا تھا ،بلا شبہ حق تعالیٰ کی بڑی نعمت ورحمت ہے ،اس کے دینی فوائد ومنافع کا انکار نہیں کیاجاسکتا،اس گئے گذرے دور میں جب کہ باطل طاقتیں مختلف ذرائع ابلاغ کے ذریعہ باطل کی تبلیغ واشاعت میں مصروف ہیں اور ہم ان ذرائع ووسائل سے محروم ہیں ،ایسے وقت میں خاص طورپر دعوت وتبلیغ کی یہ محنت ہمارے لئے بڑی قابل قدر نعمت ہے ،یہ ہمارے اکابر کا قیمتی سرمایہ اوران کی میراث ہے، اس کی حفاظت کرنا اور اس سے دینی منافع حاصل کرنا ہم سب عوام وخواص کی ذمہ داری ہے ،جس کی آسان اورکامیاب صورت یہی ہے کہ اس کام کے تعلق سے مولانا محمد الیاس صاحب ؒ کی جواہم ہدایات کتاب وسنت کی روشنی میں ہیں ان سے واقف ہوا جائے اور اسی کی روشنی میں اس کام کو آگے بڑھایا جائے ۔ علماء کرام کی ذمہ داری ہے کہ وہ نبی کے وارث اور جانشین ہونے کی حیثیت سے اپنے منصبی فریضہ کو مدنظر رکھتے ہوئے اس کا م میں ہونے والی تمام قسم کی کوتاہیوں ،لغزشوں اور افراط وتفریط کو شفقت وہمدردی کے ساتھ اصحاب تبلیغ کو آگاہ کرتے رہیں ،الحمدللہ ہر زمانہ میں علماء حق اس کام کو انجام دیتے رہے ہیں ۔ عوام الناس اور ذمہ دارانِ تبلیغ کی ذمہ داری ہے کہ وہ علماء کرام کی ان ہدایات و اصلاحات اورتنبیہات کو نہایت توجہ کے ساتھ سنیں ،پڑھیں ،غور کریں اور اس کے مطابق ہی