کارکنان تبلیغ کے لیے مولانا محمد الیاس صاحب کی مفید باتیں اور اہم ہدایاتت |
عوت وتب |
|
میں اعتکاف کرنا ہے، اخیر عشرہ میں تو آپ اعتکاف فرماتے ہی تھے بعض موقعوں میں پہلے دوسرے عشرہ میں یعنی پورے مہینے کا بھی اعتکاف فرمایا۔ آپ کے ساتھ صحابہ کرام کی بڑی تعداد اور جماعت اعتکاف میں شریک رہتی تھی، آپ نے اپنے ساتھ صحابہ کو بھی اعتکاف کی ترغیب دی اورایک موقع پر پردہ اٹھاکر فرمایا جولوگ اعتکاف کررہے ہیں اخیر عشرہ کا بھی اعتکاف کریں ۔۹- تعلیم قرآن و تعلیم صلوۃ: مسجد نبوی میں آپ لوگوں کو قرآن پاک اور التحیات دعا ماثورہ وغیرہ یعنی نماز بھی سکھاتے تھے حدیثوں میں اس کے مختلف واقعات مذکور ہیں ۔۱۰- نعتیہ اشعار: بعض موقعوں پر آپ نے بعض شاعر صحابہ مثلاً حضرت حسان رضی اللہ عنہ کو منبر پر بٹھاکر اشعار بھی سنے ہیں احیاناً ضرورت کے وقت پسندیدہ اشعار اور حمد و نعتیہ کلام سے مسجد کو آباد کرنا بھی مسجد نبوی کی سنت ہے، لیکن مسجد میں مروجہ مشاعرہ کی محفل قائم کرنا درست نہیں کہ اس شور شغب میں مسجد کی حرمت کو محفوظ نہیں رکھا جاسکتا۔ واللہ اعلم۔ رسول اللہ صلی اﷲ علیہ وسلم کے وقت میں مسجد میں یہ سارے کام ہوا کرتے تھے، حضرت مولانا محمد الیاس صاحبؒ نے فرمایا کہ اپنی مساجد کو اعمالِ نبوت سے آباد کرنے کی کوشش کرو۔ایک ضروری تنبیہ فائدہ: بہت سے حضرات یہ سمجھتے ہیں کہ مساجد کا حق یہ ہے کہ ہر وقت ان کو آباد رکھا جائے، ہر وقت مسجد میں علم وذکر کے حلقے قائم رہیں ، ہر ہر فرد مسجد میں کئی کئی گھنٹے گذارنے کا معمول بنالے، تاکہ مساجد میں رہ کر اعمال مسجد کو زندہ کریں ، اور مسجد کو آباد رکھنے اور اس عمل کو زندہ کرنے کیلئے ایک نظام بھی تجویز کیا ہے کہ کچھ لوگ بذریعہ