کارکنان تبلیغ کے لیے مولانا محمد الیاس صاحب کی مفید باتیں اور اہم ہدایاتت |
عوت وتب |
|
سنت اور رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کے اسوہ نیز مولانا محمد الیاس صاحبؒ کی ہدایت کے بھی خلاف معلوم ہوتا ہے اس لیے ارباب حل و عقد کو اس پر خوب غور وفکر کرنا چاہئے۔ (مرتب)علم کے تعلق سے تبلیغی کام کرنے والوں کو اہم نصیحت فرمایا: ہر نکلنے والے کو اپنے مشغلہ کے خصوصی احکام سیکھنے کی ضرورت ۔ عمومی علوم کے بعد خصوصی پر محنت کرو۔ (مکتوبات و ارشادات ص:۱۷) تشریح: مولانا محمد الیاس صاحبؒ کا مطلب یہ ہے کہ دعوت وتبلیغ سے جڑنے اور نکلنے والوں پر لازم ہے کہ زندگی کے جس شعبہ سے ان کا تعلق ہے اور وہ جو مشغلہ اختیار کئے ہوئے ہیں ، اس سلسلہ کے شرعی احکام ضرور سیکھیں ، اس شعبہ سے متعلق جو معروفات اور جو منکرات ہیں ان کو معلوم کریں ، معروفات کو اختیار کریں اور پھیلائیں ، منکرات سے بچیں اور دوسروں کو منع کریں ۔ عمومی علوم سے مراد نماز، روزہ وغیرہ کے ضروری احکام ہیں یہ تو سب کے لیے ہیں ہی اس کے ساتھ ساتھ خصوصی علوم واحکام جن سے تمہارا تعلق ہے، وہ علم حاصل کرو، مثلاً اگر کوئی ڈاکٹر ہے تو ڈاکٹری کے سلسلہ کے جتنے احکام شرعیہ ، معروفات ومنکرات ہیں اور ڈاکٹروں کے لیے رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کی جو ہدایات ہیں وہ سب معلوم کرے، خواہ کتابوں سے دیکھ کر خواہ علماء سے پوچھ کر۔ اسی طرح تاجر حضرات کو تجارت کے سلسلہ کے، کاشتکار حضرات کو کاشتکاری کے، ملازمین حضرات کو ملازمت کے، سیاسی حضرات کو سیاست کے احکام شرعیہ اور اس سلسلہ کے معروفات و منکرات کا معلوم کرنا ضروری ہے۔ (مرتب)