کارکنان تبلیغ کے لیے مولانا محمد الیاس صاحب کی مفید باتیں اور اہم ہدایاتت |
عوت وتب |
|
ناظم صاحب نے فرمایا سب لکھئے اور لکھ کر بھیج دیجئے ،اب تک تم نے جو لکھا ہے اس کا بہت فائدہ محسوس کیاگیا اور کافی اصلاح اور تبدیلی بھی محسوس کی گئی ،آپ جیسے لوگوں کو ضرور لکھنا چاہئے ، اللہ تعالیٰ جزاء خیر دے حضرت ناظم صاحب کو کہ انہوں نے احقر کی بہت ہمت افزائی اور تائید فرمائی ۔حضرت مولانا زبیرالحسن صاحب نوراللہ مرقدہ‘ مرکز نظام الدین دہلی (۵)اس وقت مجھے یادآرہے ہیں حضرت جی مولانا انعام الحسن صاحب ؒ کے فرزندوجانشین حضرت مولانا زبیر الحسن صاحبؒ جو میرے اور حضرت تھانویؒ کے افادات پر مشتمل میری ترتیب دی ہوئی کتابوں کے بڑے قدر داں تھے ،ملاقات کے وقت پہلا سوال ان کا یہ ہوتا تھا کہ نئی کتاب کون سی لائے ہو ؟مرکزنظام الدین حاضری کے موقع پرجب بعض ذمہ داروں کے نام احقر خط لے کر حاضر ہوا، حضرت مولانا زبیر صاحبؒ نے اس وقت بڑے اہتمام سے اس کی فوٹوکاپی مانگی نیز اسباب واعمال سے متعلق احقر نے اپنی کتاب ’’اسباب واعمال اور تدبیر توکل کا شرعی درجہ‘‘ بھی خدمت میں پیش کی اوراسی نوع کے بعض امور سے متعلق مشورے بھی لئے ،موصوف کا یہ جملہ اب تک یاد ہے اور ہمیشہ یادرہے گا ’’استفت قلبک ولوافتاک المفتون‘‘مطلب یہ کہ تم جو کام کررہے ہو اور تمہارا دل اس سے مطمئن ہے تولوگ کچھ بھی کہتے رہیں آپ اپنا کام کیجئے ،کسی کے کہنے کی کچھ پرواہ نہ کیجئے ،موصوف کی باتوں سے بڑی تسلی ہوئی ،آج اگر وہ حیات ہوتے تواس کتاب کو دیکھ کر بڑے خوش ہوتے ،اللہ تعالیٰ ان کی قبر کو نور سے بھردے اور درجات عالیہ نصیب فرمائے ۔