کارکنان تبلیغ کے لیے مولانا محمد الیاس صاحب کی مفید باتیں اور اہم ہدایاتت |
عوت وتب |
|
کن کن چیزوں کی تعلیم دی، سوسمجھ لینا چاہئے کہ آپ جو پیغام لے کر آئے وہ زندگی کے تمام شعبوں کو محیط ہے ،اس کا تعلق عقائد وعبادات اور معاملات سے بھی ہے اور معاشرت واخلاق اور سیاست وحکومت سے بھی ہے،حقوق اللہ اور حقوق العباد میں سے ہر ایک کے حقوق آپ نے بتائے اور ان کوادا کرنے کی تاکید فرمائی ،اس لئے اس تحریک اور دعوت وتبلیغ کے بنیادی مقاصد میں یہ بات شامل ہے کہ دین کے تمام شعبوں کو زندہ کیاجائے، عقائد، عبادات ،معاملات ،معاشرت ،اخلاق میں سے ہر ایک کے متعلق حضور پاک ﷺ کا پیغام معلوم کرکے اس پر خود بھی عمل کرے اور دوسروں کوبھی اس کی ترغیب دے ،حقوق اللہ کی ادائیگی کے ساتھ حقوق العباد میں سے ہر ایک کا حق پہچانے اور اس کو ادا کرے ،یہ ہے اس تحریک کا مقصد۔(مرتب)جماعتوں کی نقل وحرکت توکام کی ابتداء ہے مقاصد کی تکمیل کی شدید ضرورت فرمایا…لوگ میری تبلیغ کے برکات دیکھ کر یہ سمجھتے ہیں کہ کام ہورہاہے، حالانکہ کام اور چیز ہے اور برکات اور چیز ہیں ،دیکھو !رسول اللہ ﷺ کی ولادت شریفہ ہی سے برکات کاتو ظہور ہونے لگا تھا مگر کام بہت بعد میں شروع ہوا اسی طرح یہاں سمجھو ، میں سچ کہتا ہوں کہ ابھی تک اصلی کام شروع نہیں ہوا ، جس دن کام شروع ہوجائے گا تو مسلمان سات سو برس پہلے کی حالت کی طرف لوٹ جائیں گے ،اور اگر کام شروع نہ ہوا بلکہ اسی طرح رہا جس طرح پر اب تک ہے اور لوگوں نے اس کو منجملہ تحریکات کے ایک تحریک سمجھ لیا اور کام کرنے والے اس راہ میں بچل گئے(یعنی جمودکاشکارہوگئے اور اسی نقل وحرکت کو جو کہ ہمارے کام کی ابتداء اور الف ،با،تاہے اسی کو اصل مقصد سمجھ کر اسی پر اکتفاء کرنے لگے اور اصل کام جو مقصود ہے اور جو میں چاہتاہوں جس کی تفصیل آ گے آرہی ہے اس