کارکنان تبلیغ کے لیے مولانا محمد الیاس صاحب کی مفید باتیں اور اہم ہدایاتت |
عوت وتب |
|
کے زمانہ میں جو کچھ تم نے سیکھا ہے اور جن اعمال کی عادت ڈالی ہے اپنے مقام پر رہ کر اسی کے مطابق زندگی گذارو۔ حضرتؒ نے دوسری اہم بات کی طرف توجہ دلائی ہے کہ نکلنے کے زمانہ میں جو طلب اور جو ذوق وشوق پیدا ہوجائے گا اس ذوق و شوق سے کام لینے کی ضرورت ہے وہ اس طرح کہ اب دینی مسائل اور احکام شرعیہ کو سیکھنے کی کوشش کریں ، کیونکہ اس سیکھنے میں محنت و مشقت بھی ہوتی ہے پھر عمل کا نمبر آئے گا، جماعت میں نکلنابذات خود مقصود نہیں بلکہ حضرتؒ کے فرمان کے مطابق نکلنے کا مقصد یہ ہے کہ تمہارے اندر فکر اور ذوق وشوق پیدا ہوجائے تاکہ اس کے بعد احکام ومسائل سیکھنے کی کوشش کرو اور اس کے مطابق عمل بھی کرو۔ حضرت کے فرمان کے مطابق اس ذوق و شوق کے پیدا ہونے سے پہلے اولاً تو احکام و مسائل سیکھنے کی طرف طبیعت راغب نہ ہوگی اور اگر سیکھ بھی لیا تو عمل کی طرف رجحان نہیں ہوگا، یہ بھی گناہ کا باعث ہوگا کہ جانتے ہوئے عمل کیوں نہیں کیا، اس کے لیے حضرت نے ایسی تدبیر بتلائی کہ نکلنے کے زمانہ میں ایسی طلب و شوق پیدا ہوجائے کہ آدمی کی طبیعت خود ان احکام شرعیہ کو سیکھنے اور عمل کرنے کی طرف راغب ہوجائے، گویا یہ نکلنا ذریعہ اور واسطہ ہے مقصد کے حاصل ہونے کا، لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ ہمارے بہت سے بھائیوں نے صرف نکلنے ہی کو اصل مقصود سمجھ لیا اور اس کے بعد زندگی کے ہر شعبہ سے متعلق احکام شرعیہ کو سیکھنا اور اس کے مطابق عمل کرنا اس سے غافل ہوگئے۔علوم شرعیہ کی تحصیل و تکمیل مدارس و خانقاہوں کے ذریعہ ہوگی دعوت و تبلیغ مدارس و خانقاہ کے لیے بمنزلۂ وسیلہ اور بنیاد کے ہے ارشاد فرمایا: تحصیل علوم (یعنی علوم شرعیہ دینیہ کے) مروجہ طرق (یعنی ) مدارس اور خانقاہیں تکمیل علوم کے لیے ہیں اور (ہماری) یہ تبلیغ ان کی ابتدائی تعلیم و تعلّم اور