کارکنان تبلیغ کے لیے مولانا محمد الیاس صاحب کی مفید باتیں اور اہم ہدایاتت |
عوت وتب |
|
ہواکہ نہ صرف دعوت کے اصول وآداب اور اس کی روح وضوابط کے لحاظ سے بلکہ اپنے بلند مضامین اور دینی حقائق کے لحاظ سے بھی یہ گرانقدر ذخیرہ ہے ۔ طویل تذبذب اور کش مکش کے بعد یہ خیال ہوا کہ اس مجموعہ کی اشاعت ان اصحاب کے لئے بڑی مفید اور باعث تقویت ہوگی جو دعوت کے کام میں مشغول ہیں ،اور اس سے مناسبت رکھتے ہیں ،ان خطوط سے ان کی ہمتیں بلند ہوں گی،ان کی نگاہوں میں دعوت کی قیمت واہمیت بڑھے گی ،اس کا صحیح موضوع اورمقصد معلوم ہوگا ،بہت سی غلطیوں اورکوتاہیوں پر تنبّہ ہوگا ،اور اس کے بہت سے اصول وآداب معلوم ہوں گے ،بہت ممکن ہے کہ اس کی اشاعت کسی اہل کے لئے عمل کا محرک یا اس کی تقویت کا باعث بن جائے، اور اسطرح کسی نااہل کی بے عملی اور پست ہمتی کا کفارہ اور جبرنقصان ہوجائے۔ ابوالحسن علی لکھنؤ۱۳؍صفر ۱۳۷۲ھ (ماخوذازمقدمہ مکاتیب حضرت مولاناشاہ محمدالیاسؒ،ص ۳،مطبوعہ دہلی)تبلیغی امورسے متعلق مشورہ کے ذریعہ مشکلات کا حل اور سوالات کے جوابات دینے کا خاص اہتمام حضرت مولانا سید ابوالحسن علی ندوی ؒ تحریرفرماتے ہیں : (حضرت مولانامحمدالیاس صاحبؒ کی)تاکید تھی کہ روازانہ صبح کی نماز کے بعد آئی ہوئی تبلیغی ڈاک مجمع کو سنائی جائے،حاضرین سے جواب کے لئے مشورہ لیا جائے ،وہ مسائل وحالات جو خطوط میں درج ہیں حاضرین کے سامنے پیش کئے جائیں اوران پر ان سے مشورہ لیا جائے ،ڈاک پیش کرنے سے پہلے ایک مختصر تقریر کرنی ہوتی تھی کہ یہ ڈاک اس لئے آپ کے سامنے پیش کی جاتی ہے تاکہ آپ ان حالات ومسائل پر غور