کارکنان تبلیغ کے لیے مولانا محمد الیاس صاحب کی مفید باتیں اور اہم ہدایاتت |
عوت وتب |
|
دینی تعلیم کی اہمیت اور مدارس اسلامیہ کی ضرورت فرمایا: مدرسہ کی تعلیم جڑ ہے، مگر وہ ابتداء ہے، انتہا یہی ہے ، دونوں کی ضرورت ہے، یہ تحریک اس کا بدل نہیں ہے، تمام احادیث کی ضرورت ہے۔ (ارشادات و مکتوبات ص:۲۲) تشریح: حضرت رحمۃ اﷲ علیہ نے اپنے اس ارشاد میں تعلیم و تبلیغ دونوں کی ضرورت وا ہمیت کو بیان فرمایا ہے، مدارس اسلامیہ کو تعلیم کی جڑ فرمایا ہے، جس طرح جڑ کے بغیر کسی پودے اور درخت کا وجود نہیں ، بنیاد کے بغیر عمارت کا وجود نہیں ، جڑ کمزور ہو، یا اکھڑ جائے تو درخت بھی خشک ہوکر گر جائے گا، یہی حال دین کے تمام شعبوں میں دینی تعلیم کا ہے، اگر دینی تعلیم نہ ہوگی تو دین کے تمام شعبے خشک ہوجائیں گے، اس لحاظ سے فرمایا کہ مدرسہ کی تعلیم جڑ ہے، یعنی تعلیم کے بغیر کسی شعبہ کو زندہ نہیں رکھا جا سکتا ۔ لیکن تعلیم اصل مقصود نہیں بلکہ وہ ابتداء ہے، مراد اس سے ابتدائی تعلیم ہے، جس سے قرآن و حدیث کے الفاظ و معانی پڑھنے اور سمجھنے کی لیاقت و صلاحیت پیدا ہو، اس کے بعد جملہ احکام شرعیہ کی حفاظت اور اس کی تبلیغ یعنی احکام خداوندی کو اللہ کے بندوں تک پہنچانا اور اس کے مطابق عمل کا رواج ڈالنا یہ مقصود ہے، اور یہی تعلیم کا منتہا بھی ہے جس کا حکم اس آیت میں دیا گیا ہے ’’یَا اَیُّہَا الرَّسُوْلُ بَلِّغْ مَا اُنْزِلَ اِلَیْکَ مِنْ رَبِّک‘‘ (اے نبی آپ پر جو احکام نازل کئے گئے ہیں ان سب کی تبلیغ فرمادیجئے) ۔ بلا شبہ ان سب احکام کی تبلیغ کی صلاحیت بھی ابتدائی تعلیم اور مدارس کے ذریعہ ہی پیدا ہوگی، یہ تحریک اس کا بدل ہرگز نہیں ہوسکتی، کیونکہ جملہ احکام شرعیہ کی تبلیغ کے لیے تمام احادیث اور کتب شرعیہ و فقہیہ سے استفادہ کی ضرورت ہے، یہ ضرورت اس تحریک سے پوری نہیں ہوسکتی، یہ تو مدارس ہی سے پوری ہوسکتی ہے۔ (مرتب)