کارکنان تبلیغ کے لیے مولانا محمد الیاس صاحب کی مفید باتیں اور اہم ہدایاتت |
عوت وتب |
|
کریں ،اور دینی باتوں پر غور کرنے کی عادت ڈالیں ۔ ان خطوط میں اکثر وہ باتیں ہوتیں جن پر دہلی ومیوات کے تجربہ کار مبلغین کے مشورہ کی ضرورت ہوتی ،اور ان کی باہمی گفتگو اور تبادلہ ٔ خیال سے وہ مسائل طے ہوتے، کہیں کام کی مشکلات کا ذکر ہوتا، یہ حضرات اپنے تجربہ سے ان کا حل پیش کرتے ،کہیں اپنے طریق کار کی تفصیل ہوتی ،اس میں اگر کوئی کوتاہی ہوتی جس کی وجہ سے دقتیں پیش آرہی ہوتیں تو اس پر متنبہ کرتے ۔ ابتداء میں یہ خطوط مولاناکی موجودگی میں پیش کئے جاتے،لیکن عموماً مولاناکو بولنا پڑتا جس سے ضعف وتعب بڑھ جاتا ،اس لئے اخیر میں کچھ فاصلہ سے یہ مشور ہ ہوتا،یہ خدمت اس عاجز کے سپرد تھی ،دن میں کسی وقت حاضری کا موقع ہوتا تودریافت فرماتے کہ آج ڈاک میں کیا تھا ،اورمجمع نے کیا طے کیا؟ ،غلطیوں کی اصلاح اور اپنی رائے کا اظہار فرماتے ،پھر وہ دوسرے روز مجمع کو سنائی جاتیں ،اس طرح گویا مولانااپنے بعد کام کو جاری رکھنے اور اس کا نشیب وفراز سمجھنے کی کوشش کرارہے تھے اور کوئی شک نہیں کہ یہ مشورہ بڑا سبق آموز اور مفید تھا ۔ ( حضرت مولانامحمدالیاسؒاور ان کی دینی دعوت ص۱۸۷)حضرت مولانامحمدالیاس صاحبؒ کے ملفوظات و ہدایات اور آپ کے مشوروں کی اہمیت، علماء واکابرین امت کی نظر میں جناب مولانا افتخار فریدی صاحب ؒجو حضرت مولانامحمدالیاس صاحبؒکے ارشادات ومکتوبات کے مرتب وجامع ہیں ،تحریر فرماتے ہیں : مختلف حضرات کے لکھے ہوئے ملفوظات جو مہیا ہوسکے اس کتاب میں شائع کئے جارہے ہیں …