کارکنان تبلیغ کے لیے مولانا محمد الیاس صاحب کی مفید باتیں اور اہم ہدایاتت |
عوت وتب |
|
منظر اور قبر اور حشر کا منظر ہونا۔ (۲) بس تمام کام دین و دنیا کے اللہ کی رضا کے موافق کرے، اللہ کے سوا کسی کو قادر نہ سمجھے، یہ ہے دین کا خلاصہ۔ (ارشادات و مکتوبات ص:۹۹-۱۰۰)یہ بھی ہمارا کام ہے اس میں بھی حصہ لینا چاہئے سابقین کی باتوں کو زندہ رکھنا ہمارا کام ہے۔ (ارشادات و مکتوبات ص:۳۹) تشریح: سابقین سے مراد ہمارے علماء ومشائخ، فقہاء و مجتہدین، مصلحین و مجددین، جنہوں نے قرآن و حدیث کی روشنی میں اصلاح امت کا کام کیا اور دین کی صحیح ترجمانی کی، امت کی اصلاح کے لیے حالات کے لحاظ سے مختلف طریقے اور تدبیریں و ہدایتیں بیان فرمائیں جو ان کی کتابوں میں محفوظ اور تسلسل کے ساتھ چلی آرہی ہیں ، ان ساری باتوں کی قدر کرنا ان کی حفاظت کرنا، اور ان علوم کو زندہ رکھنا یہ بھی ہمارا کام ہے۔ حضرتؒ کے اس مختصر ارشاد میں بہت سی باتیں آجاتی ہیں مثلاً ہمارے سابقین ، اسلاف اور مشائخ نے علوم دینیہ کی نشر و اشاعت کے لیے مدارس و مکاتب کا نظام قائم کیا، تزکیہ نفس تصفیۂ قلوب کے لیے خانقاہوں کا نظام قائم کیا اور پیری مریدی کے سلسلہ کو جاری رکھا، امت کی اصلاح اور روحانی وباطنی فیوض کے لیے رمضان شریف میں اعتکاف کے سلسلہ کو سنت کے مطابق جاری رکھا، امت میں پھیلے ہوئے مفاسد و منکرات اور بدعات کی اصلاح کے لیے خطبات جمعہ اور جلسوں میں تقریروں کا اہتمام کیا، باطل فرقوں کی تردید کے لیے موقع پڑنے پرمناظرہ بھی کیا، دین کے مختلف شعبوں کو زندہ کرنے اور زندگی کے مختلف شعبوں کی اصلاح کے لیے علمی و اصلاحی کتابوں ورسائل کی تصنیف کا سلسلہ جاری رکھا، چنانچہ اکابر علماء کی کتابوں کا ذخیرہ موجود ہے، حضرتؒ فرمارہے ہیں ہمارے اسلاف اور سابقین کی علمی کاوشوں اور ان کی باتوں کو زندہ رکھنا یہ بھی ہمارا کام ہے، اس میں بھی ہم کو بڑھ چڑھ کر حصہ لینا چاہئے۔