کارکنان تبلیغ کے لیے مولانا محمد الیاس صاحب کی مفید باتیں اور اہم ہدایاتت |
عوت وتب |
|
باب ۶ منکرات پر نکیر کی ضرورت و اہمیت امر بالمعروف ونہی عن المنکر دونوں دعوت کے فرض شعبے ہیں فرمایا: فرائض کا مقام نوافل سے بہت بلند تر ہے بلکہ سمجھنا چاہئے کہ نوافل سے مقصود ہی فرائض کی تکمیل یا ان کی کوتاہیوں کی تلافی ہوتی ہے، غرض فرائض اصل ہیں اور نوافل ان کے توابع اور فروع ،مگر بعض لوگوں کا حال یہ ہے کہ وہ فرائض سے تو غفلت برتتے ہیں اور نوافل میں مشغول رہنے کا اس سے بدرجہا زیادہ اہتمام کرتے ہیں ، مثلاً آپ سب حضرات جانتے ہیں کہ ’’دعوت الی الخیر‘‘ ’’امر بالمعروف‘‘ اور ’’نہی عن المنکر‘‘ (غرض تبلیغ دین کے) یہ تمام شعبے اہم فرائض میں سے ہیں ، مگر کتنے ہیں جو ان فرائض کو ادا کرتے ہیں ، لیکن اذکار نفلیہ میں اشتغال و انہماک رکھنے والوں کی اتنی کمی نہیں ۔ (ملفوظات مولانا محمد الیاس صاحبؒ ص:۱۶-۴۴) فائدہ: حضرتؒ کے اس فرمان سے معلوم ہوا کہ دعوت وتبلیغ کے تین اہم شعبے ہیں ، اورتینوں فرض ہیں ، دعوت الی الخیر، یعنی تمام بھلے اور نیک کاموں کی لوگوں کو دعوت دینا، دوسرے معروفات کا حکم کرنا خاص طور پر اپنے مبلغین اور قریبی لوگوں کو ، تیسرے منکرات پرنکیر کرنا یعنی تمام قسم کے چھوٹے بڑے گناہوں پرروک ٹوک کرنا خصوصاً اپنے قریبی اور متعلقین لوگوں کو ، حضرت بطورشکایت اورتنبیہ کے فرمارہے ہیں کہ لوگ نوافل کا تو بہت اہتمام کرتے ہیں لیکن فرائض کی ادائیگی میں جس میں معروفات کو پھیلانا اورمنکرات پرنکیرکرنا بھی شامل ہے کوتاہی کرتے ہیں ۔