کارکنان تبلیغ کے لیے مولانا محمد الیاس صاحب کی مفید باتیں اور اہم ہدایاتت |
عوت وتب |
|
قابل نکیر لکھا ہے، علامہ حلبی نے شرح منیہ میں ص:۴۳۷ میں علامہ ابن نجیم نے البحر الرائق ۱؍۵۲ میں اور مراقی الفلاح ص:۶۴ میں اور علامہ ابن الحاج مالکی نے المدخل (فصل فی ذکر صلاۃ الرغائب ۴؍۲۴۸) میں اور اس کے علاوہ دوسرے فقہاء و محدثین نے اس کو مکروہ اور بدعت قرار دیا ہے، نیز حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی تھانویؒ نے بھی اصلاح الرسوم ص:۱۵۲فصل پنجم وص ۱۰۷و۱۲۹ میں اس کودلائل سے خلاف شرع لکھا ہے۔ اس لیے ہمارے تمام تبلیغی احباب کو اس حقیقت سے غافل نہ ہونا چاہئے کہ شب گذاری وشب بیداری کے عنوان سے یہ اجتماع صرف وعظ و تبلیغ کے لیے یا تبلیغی کارگذاری سنانے اور آئندہ کے لیے لائحہ عمل اور مشورہ کے لیے ہو، جیسا کہ حضرت مولانا محمد الیاس صاحبؒ کا معمول تھا، یہ اجتماع محض عبادت کے لیے نہ ہو، یعنی محض شب بیداری و شب گذاری کے خاطر اجتماع نہ ہو، ورنہ اس کے ممنوع اور بدعت ہونے میں کوئی شبہ نہیں ہوگا، ہمارے تمام فقہاء اور اکابر اس پر متفق ہیں ۔ الحمدﷲ اب تک ایسا نہیں ہے، یعنی اصحاب تبلیغ کا یہ اجتماع کارگذاری اور مشورہ وغیرہ کے لیے ہی ہوتا ہے نہ کہ محض عبادت کے لیے اس لیے اس کو غلط اور بدعت نہیں کہا جاسکتا ، لیکن آئندہ کے لیے احتیاط ضروری ہے کہ خدا نخواستہ نفس اجتماع ہی مقصود نہ بن جائے، اسی غرض سے یہ پوری تفصیل عرض کی گئی۔عبادت کے مختلف انواع فکری عبادت کی بھی فکر کیجئے جو ستر سالہ عبادت سے بہتر ہے ارشاد فرمایا: بدنی عبادت سے فکری عبادت اتنی (اہم) ہے کہ ستر سالہ عبادتوں کے مقابلہ میں ایک گھڑی کی فکر زیادہ (اہم) ہے۔ (ارشادات ومکتوبات ص:۴۵) فرمایا: لوگوں کو دین کی طرف لانے اور دین کے کام میں لگانے کی تدابیر