کارکنان تبلیغ کے لیے مولانا محمد الیاس صاحب کی مفید باتیں اور اہم ہدایاتت |
عوت وتب |
|
طلب علم کی دعوت بھی ضروری ہے علم ملے گا بزرگوں کی صحبت سے ارشاد فرمایا: دینی امروں کی تلاش کا نام طلب علم ہے، گویا طلب علم فرض ہے، اس طریق کے ساتھ گھروں سے طلب علم کے لیے بے طلبوں میں نکلو اور ان کو طلب کی دعوت دو، اور طلب والوں کو علم کی دعوت دو، اور علم ملے گا بزرگوں کی صحبت سے وہ حضرات علم کو مع عمل کے لیے بیٹھے ہیں ۔ وہ خزانہ ہیں علم و عمل کا۔ (ارشادات ومکتوبات ص:۶۸) فائدہ: دینی امروں کا تلاش کرنا یعنی احکام خداوندی اورا حکام شرعیہ کو معلو م کرنا یہی طلب علم ہے، جس کو شریعت نے فرض قرارا دیا ہے، جس کے ذریعہ حلال و حرام، جائز ناجائز کا علم ہوتا ہے۔ حضرتؒ کے فرمان کا حاصل یہ ہے کہ جن کے اندر دین کی بالکل ہی طلب اور پیاس نہیں ہے ان میں جاکر پہلے طلب اور پیاس پیدا کرو، اور جن کے اندر طلب پیدا ہوچکی ہے اور وہ کام سے جڑچکے ہیں ان کو علم دین اور احکام خداوندی سیکھنے کی دعوت دو، اور یہ علم دین محض کتابوں کے مطالعہ سے اور آج کل انٹرنیٹ وغیرہ کے ذریعہ سے کما حقہ حاصل نہیں ہوسکتا، بلکہ صحیح طریقہ پر علم دین حاصل کرنے کے لیے علماء و مشائخ کی صحبت یعنی ان سے ربط رکھنے اور ان کے مشورے اور ان کی زیر نگرانی علم حاصل کرنے سے صحیح علم حاصل ہوگا۔ یہ حضرات علماء کرام اور مشائخ دین علم و عمل دونوں کے جامع ہیں ، وہ علم و عمل کا خزانہ ہیں ، ان کی صحبت سے مستفید ہوکر اور ان کے مشورہ کے تحت دینی امروں یعنی احکام شرعیہ کا علم حاصل کریں ، یہ ہدایت اور نصیحت ہے حضرت مولانا محمد الیاس صاحبؒ کی ، ان لوگوں کے لیے جن کے اندر طلب پیدا ہوچکی ہے، اور وہ کام سے جڑے ہوئے ہیں ۔