کارکنان تبلیغ کے لیے مولانا محمد الیاس صاحب کی مفید باتیں اور اہم ہدایاتت |
عوت وتب |
|
ہوئے ہیں ، یا تمام فرائض و واجبات جن کولوگ چھوڑے ہوئے ہیں ، ان سب کی اصلاح کی بھر پور کوشش کریں تقریر و تحریر اورجلسہ، جس ذریعہ سے ممکن ہو یہ کام کریں ، خود اگر نہیں کرسکتے تو جو لوگ یہ کام کرنے والے ہیں ان کا تعاون کریں ، ان کے کام میں شرکت کریں کیونکہ یہ ہمارا کام ہے اور تبلیغ کے اصل مقاصد میں سے بلکہ اصل تبلیغ یہی ہے یعنی معروفات کو پھیلانے کے ساتھ منکرات کو بند کرنے کی کوشش کرنا۔ (مرتب)اس کے بغیر تمہاری تبلیغی محنت ناقدری کا شکار ہوجائے گی فرمایا: جب تک مخاطب میں منکر کے قبیح جاننے اور معروف کے مستحسن سمجھنے کی اہلیت نہ ہو، اس سے حکم کے درجہ میں کچھ کہنا خود امر کی ناقدری کرنا ہے، اوامر و نواہی کی حس رکھنے والے کے ذمہ ہے کہ پہلے منکر کے نقصان اور معروف کے نفع کو اپنے قول و عمل سے اتنا ثابت کردے کہ مخاطب پر ضرر و نفع واضح ہوجائے۔ (ارشادات و مکتوبات ص:۱۸) تشریح: مولانا رحمۃ اللہ علیہ کے فرمان کا حاصل یہ ہے کہ دعوت و تبلیغ کے چونکہ دو اہم جزء ہیں امر بالمعروف ، نہی عن المنکر، اس کے بغیر تبلیغ کامل نہیں ہوسکتی، اس لیے تبلیغ میں دونوں کام کرنا ہے، یعنی معروف کی تبلیغ اور منکرات پر نکیر، لیکن اس تبلیغ سے پہلے ضروری ہے کہ مخاطب کی صلاحیت وذہنیت کو دیکھو، اگر وہ معروف کو پسندیدہ نگاہ سے نہیں دیکھتا ، منکر و معصیت کی قباحت اور اس کی خرابیاں اس کے ذہن میں نہیں ، تو وہ تمہاری تبلیغ کی ناقدری کرے گا، اس لیے تبلیغ سے پہلے ضروری ہے کہ معروفات کا استحسان یعنی اچھائیاں ، خوبیاں ، فوائد اور منکرات کی خرابیاں اور نقصانات اپنے قول و عمل سے اتنا واضح اور بیان کردو، کہ اس کو اس کا یقین ہوجائے، پھر تمہاری تبلیغ کا فائدہ ہوگا، اور وہ پورے طور پر مؤثر ہوگی۔ اس مقصد کے لیے یعنی طاعات و معروفات کی اچھائیوں اور منافع اور منکرات و