کارکنان تبلیغ کے لیے مولانا محمد الیاس صاحب کی مفید باتیں اور اہم ہدایاتت |
عوت وتب |
|
یعنی جس عزت سے بادشاہ کا فرمان اور جس شوق سے محبوب کا کلام پڑھا جاتا ہے اسی طرح پڑھنا چاہئے۔ (فضائل قرآن ص:۲۴۶ ،حدیث: ۲۷) قرآن پاک حق تعالی کی آسمانی کتاب ہے جو ہماری ہدایت کے لئے نازل کی گئی ہے ،اس کے بہت سے حقوق ہیں ،بعض الفاظ کے اعتبار سے اوربعض معانی کے اعتبار سے ،تمام اہل ایمان پر قرآن پاک کے حقوق ادا کرنالازم ہے ،حضرت مولانا محمد الیاس صاحب ؒ نے قرآن پاک کے ایک حق کی طرف توجہ دلائی ہے ۔ الفاظ کے اعتبار سے تو قرآن کا حق یہ ہے کہ اس کو صحیح صحیح تجوید کے مطابق پڑھنے کی مشق کی جائے اور پھر روزانہ پورے اہتمام اور وقار کے ساتھ اس کی تلاوت کا معمول بنایا جائے ،اپنی اولاد کو بھی اس کا عادی بنایا جائے ۔ معانی اور احکام کے متعلق اس کا حق یہ ہے کہ اگر خود اتنی صلاحیت ہے کہ تفسیر کی معتبر کتابوں کا مطالعہ کرکے حق تعالی کے پیغام کو اچھی طرح سمجھ سکیں تو اس کا اہتمام کریں ورنہ درس قرآن ،درس تفسیر کا انتظام کرکے جاننے والوں سے قرآن کے پیغام کو سمجھیں کہ میرا اللہ مجھ سے کیا کہتا ہے ،مجھ سے کیا چاہتا ہے ،زندگی کے ہر موڑ پر ہم کو کیا ہدایت دی گئی ہے ، وقت اور حال کے حکم کو قرآن کی روشنی میں سمجھیں ، اور یہ بات معتبر علماء کے درس قرآن کے ذریعہ ہی سے حاصل ہوسکے گی ۔ ذکر کی بہت سی قسمیں ہیں ،ایک قسم تلاوت قرآن پاک بھی ہے جو ذکر کی اعلی قسم ہے ،جس سے دل کا زنگ دور ہوتا ہے ،اللہ کی رضا حاصل ہوتی ہے ،حضرتؒ نے اسی طرف توجہ دلائی ہے کہ قرآن پاک کی تلاوت کا اہتمام کیا جائے تاکہ دل کا زنگ دُور ہو۔قرآن کو رہبر بنانے اور مفید مراقبے کی تعلیم فرمایا: صفات الٰہی اور حشرکا پیش نظر رکھنا اور قرآن شریف کو رہبر بنانا اور قرآن کی تفسیر کے لیے حدیث کو تلاش کرنا۔ (ارشادات و مکتوبات ص:۹۳)