کارکنان تبلیغ کے لیے مولانا محمد الیاس صاحب کی مفید باتیں اور اہم ہدایاتت |
عوت وتب |
|
اس کا مطلب یہ ہے کہ اپنے گھروں کو ایسا نہ بناؤ کہ وہاں نماز نہ پڑھو، جیسا کہ قبروں میں نماز نہیں پڑھی جاتی، بلکہ نمازوں اور دیگر عبادات کے ذریعہ اپنے گھروں کو آباد رکھو، رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نماز سے پہلے اور بعد کی سنتیں مسجد سے آکر گھر ہی میں ادا فرماتے تھے، افضل بھی یہی ہے، البتہ آج کل عام طور پر غفلت و لاپرواہی غالب ہے، خطرہ ہے کہ مسجد سے باہر نکلیں تو سنتیں ہی چھوڑ دیں ، اس لیے فقہاء فرماتے ہیں کہ آج کے حالات میں مساجد ہی میں سنتیں پڑھنا افضل ہے، لیکن ان کے علاوہ دیگر نوافل گھروں ہی میں پڑھنا چاہئے، یہی مطلب ہے حضرت مولانا الیاس صاحبؒ کا کہ مسجدوں کو نوافل کا گھر نہ بناؤ، یعنی نوافل ، ذکر وقرآن وغیرہ کا اہتمام گھروں میں کثرت سے کیا کرو۔ ایک حدیث پاک میں آپ نے صراحۃً فرمایا: أفضل صلاتکم فی بیوتکم إلا المکتوبۃ۔ (ترمذی شریف باب ماجاء فی فضل صلاۃ التطوع فی البیت باب :۲۱۶، حدیث :۴۵۹) رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا تمہاری افضل نمازیں وہ ہیں جن کو تم گھروں میں ادا کرو، فرائض کے علاوہ یعنی فرائض کا تو مساجد میں ہی ادا کرنا ضروری ہے، البتہ نوافل کا اہتمام گھر میں ہونا چاہئے۔اپنی مساجد کو مسجد نبوی کے طرز پر اعمال نبوت سے آباد کیجئے فرمایا ----- مسجدیں مسجد نبوی کی بیٹیاں ہیں ، اس لیے ان میں وہ سب کام ہونے چاہئیں جو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی مسجد میں ہوتے تھے، حضور صلی اﷲ علیہ وسلم کی مسجد میں نماز کے علاوہ تعلیم و تربیت کا کام بھی ہوتا تھا، اور دین کی دعوت کے سلسلہ کے سب کام بھی مسجد ہی سے ہوتے تھے، دین کی تبلیغ یا تعلیم کے لیے وفود کی روانگی بھی مسجد ہی سے ہوتی تھی، یہاں تک کہ عسا کر کا نظم بھی مسجد ہی سے ہوتا تھا، ہم چاہتے ہیں کہ ہماری مسجدوں میں بھی اسی طریقہ پر یہ سب کام ہونے لگیں ۔ (ملفوظات مولانا محمد الیاس صاحبؒ ص:۱۶۸-۲۰۷)