کارکنان تبلیغ کے لیے مولانا محمد الیاس صاحب کی مفید باتیں اور اہم ہدایاتت |
عوت وتب |
|
باب ۵ مختلف دینی جلسوں کی اہمیت معاشرہ میں پھیلی ہوئی برائیوں کو دور کرنا بھی ضروری اور اپنا کام ہے حضرت مولانا الیاس صاحبؒ میوات میں (جہاں تبلیغی کام کی جڑیں مضبوط ہوچکی تھیں ) اصلاح معاشرہ کے تعلق سے اپنے بعض خاص متعلقین کو ایک مکتوب گرامی میں تحریر فرماتے ہیں : … اسی میں سے باہمی نکاح کا استنکاف ہے (یعنی آپس میں قریبی رشتوں میں نکاح کرنے کو جس کو شریعت نے جائز قرار دیا ہے اس کو معیوب اور قبیح سمجھنا اور اس سے عار آنا) جس کو پہلے تو سنا ہے کہ حرام اور کفر سمجھتے تھے، اب زبان سے تو حلال اور جائز کہتے ہیں مگر معاملہ وہی ہے چنانچہ موضع اٹاوڑ تحصیل نوح کے ایک مرد و عورت نے باہمی راضی رضا ہوکر اس خیال سے کہ اگر یہاں نکاح ہوگیا تو قوم سخت ستائے گی ملک سے نکل کر نکاح کرلیا، اور ضلع ’’گوڑگانوہ‘‘ میں بود و باش اختیار کرلی تھی، مگر افسوس ہے کہ جاہل قوم نے دولہا کو جس کا نکاح رمضان المبارک کے اخیر جمعہ کو ہوا تھا، عید کے تیسرے دن جمعہ کے روز قتل کرکے ہاتھ پیر توڑ کر مٹی کے تیل سے جلا کر راکھ کو کسی دریا میں بہادیا۔ یہ مضمون بہت زور سے بیان کرنے کے قابل ہے کہ کفر کو، شرک کو، زنا کو اور کسی اکبر الکبائر کو (بڑے سے بڑے گناہ کو)ایسا معیوب اور قبیح (برا) نہ سمجھیں اور اللہ کے