کارکنان تبلیغ کے لیے مولانا محمد الیاس صاحب کی مفید باتیں اور اہم ہدایاتت |
عوت وتب |
|
رکھا تھا ’’کارکنان تبلیغ کے لئے قابل توجہ باتیں ‘‘احقر نے عرض کیا کہ حضرت جو بھی نام تجویز فرمادیں وہ رکھ لوں گا، حضرت نے فرمایا بجائے ’’قابل توجہ باتیں ‘‘ کے ’’اصول وآداب‘‘ یاہدایات وغیرہ نام رکھ دیا جائے ،احقر نے عرض کیا کہ اسی نام کی دوسری کتابیں آرہی ہیں ،حضرت نے غور کرنے کے بعد فرمایا’’کارکنان تبلیغ کے لئے قابل توجہ باتیں ‘‘کے بجائے ’’مفید باتیں ‘‘زیادہ مناسب ہے اوراس کی وجہ بھی بیان فرمائی، اس لئے حضرت کے مشورہ اور تجویز کے مطابق اب یہی نام رکھا گیا،اللہ تعالیٰ حضرت والا کو جزاء خیر دے اور ان کے سایہ کو تادیر ہمارے سروں پر قائم رکھے کہ اتنی باریک بینی اور دوراندیشی سے حضرت والا مفید مشوروں سے نوازتے اور پوری نگرانی فرماتے ہیں ۔ (یہ پوری تحریر حضرت اقدس ناظم صاحب دامت برکاتہم کی نظر ثانی کے بعد شامل کی گئی ہے)حضرت مولانا مفتی ابوالقاسم صاحب نعمانی دامت برکاتہم مہتمم دارالعلوم دیوبند (۳)اسی طرح میں نہایت ممنون اورشکرگذارہوں جناب مولانا مفتی ابوالقاسم صاحب نعمانی مدظلہ‘ (مہتمم دارالعلوم دیوبند)کا کہ انہوں نے نہ صرف کتاب کے معتدبہ حصہ کا بلکہ اس کے مقدمہ کا بھی بالاستیعاب مطالعہ فرمایا اور اس کے بعد اپنے تاثرات کا جس انداز سے اظہار فرمایا وہ آپ کے سامنے ہے ،اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ آپ کے نزدیک اس وقت اس جیسے کام اور اس جیسی کتاب کی کتنی اہمیت اور کتنی شدید ضرورت ہے اور کس دلسوزی ودرد مندی کے ساتھ آپ اس کے لئے فکر مند ہیں ،نیز دوسرے علماء واکابر کی دلسوزی اور فکرمندی کا بھی آپ کو احساس ہے، ان ساری باتو ں کو مدنظررکھتے ہوئے آپ نے نہ صرف مسلک دیوبند بلکہ تمام اہل حق، ارباب بصیرت کی ترجمانی کرتے ہوئے اصل حقیقت اور صحیح موقف کو واضح فرمایا، اور تبلیغی جماعت کا دینی مدارس خصوصاً ام المدارس