کارکنان تبلیغ کے لیے مولانا محمد الیاس صاحب کی مفید باتیں اور اہم ہدایاتت |
عوت وتب |
|
باب ۸ چند تنبیہات اور اہم ہدایات دین میں نافع اور مفید طریقوں کو اختیار کرنا چاہئے اگر چہ کسی بزرگ اور شیخ کے ذوق اور طریقہ کے خلاف ہو فرمایا: ہمارے بعض خاص حضرات میرے اس رویہ سے ناراض ہیں کہ میں اس دینی کام کے سلسلہ میں ہرطرح اورہروضع کے لوگوں اورمسلمانوں کے ہر گروہ کے آدمیوں سے ملتا ہوں … ان حضرات کا خیال ہے کہ یہ طرز عمل ہمارے حضرت (مولانا خلیل احمد صاحبؒ سہارنپوری) نور اللہ مرقدہ کے طریقہ اور مذاق کے خلاف ہے، لیکن میرا کہنا یہ ہے کہ جس چیز کا دین کے لیے نافع اور نہایت مفید ہو نا دلائل اور تجربہ سے معلوم ہوگیا اس کو صرف اس لیے اختیار نہ کرنا کہ ہمارے شیخ نے یہ نہیں کیا، بڑی غلطی ہے، شیخ شیخ ہی تو ہے خدا تو نہیں ہے۔ (ملفوظات مولانا محمد الیاس صاحبؒ ص:۱۴۲) تشریح: حضرت مولانا محمدالیاس صاحبؒ نے جب دعوت وتبلیغ کا کام شروع فرمایا: عام لوگوں کو دین کی راہ میں تین دن، ہفتہ، عشرہ، چلہ کے لیے نکلنے کی ترغیب دی، اس طور پر کہ اجتماعی طریقہ سے لوگ نکلیں ، مسجد میں قیام کریں ، لوگوں سے ملاقات کریں ، اور اللہ کے دین کی دعوت دیں ، یہ طریقہ بظاہر بالکل نیا تھا لیکن تجربہ نے ثابت کردیا اور اب تو لاکھوں کا مشاہدہ ہے کہ دینی بیداری اور دینی تربیت کے لیے یہ طریقہ نہایت مفید