لباس کے اسلامی آداب و مسائل |
|
جو شخص کسی مسلمان کو کپڑ اپہنائے تو وہ مستقل اللہ تعالیٰ کے پردہ (حفاظت )میں رہتا ہے جب تک کہ اُس کپڑے کا ایک بھی دھاگہ پہننے والے کے اوپر ہوتا ہے۔مَنْ كَسَا مُسْلِمًا ثَوْبًا لَمْ يَزَلْ فِي سِتْرِ اللَّهِ مَا دَامَ عَلَيْهِ مِنْهُ خَيْطٌ أَوْ سِلْكٌ۔(مستدرکِ حاکم :7422) جب کوئی مسلمان کسی مسلمان کو کپڑا پہنائے تو وہ کپڑا پہنانے والا مسلسل اللہ تعالیٰ کی حفاظت میں رہتا ہے جب تک کہ اُس کپڑے کاایک ٹکڑا بھی اُس پہننے والے کے جسم پر موجود ہوتا ہے۔مَا مِنْ مُسْلِمٍ كَسَا مُسْلِمًا ثَوْبًا إِلَّا كَانَ فِي حِفْظٍ مِنَ اللَّهِ مَا دَامَ مِنْهُ عَلَيْهِ خِرْقَةٌ۔(ترمذی: 2484) نبی کریمﷺکا اِرشاد ہے :جس نے کسی مسلمان کو سوار کرایا یاکسی برہنہ کو کپڑے پہنائے اللہ تعالیٰ اُس کے لئے راحت کو واجب کردیتے ہیں ۔مَنْ حَمَلَ رَجُلًا مِنَ الْمُسْلِمِينَ، أَوْ كَسَا عَارِيًا أَوْجَبَ اللَّهُ لَهُ الرَّوْحَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ۔(الترغیب فی فضائل الاعمال للشاھین :370) حضرت حذیفہ بن یمان نبی کریمﷺکا یہ ارشاد نقل فرماتے ہیں : جس نے کسی برہنہ شخص کو اللہ تعالیٰ کی رضا کے لئے کپڑے پہنائے اللہ تعالیٰ اُس کو جنت میں داخل فرمائیں گے۔من كسا عاريا أراد به الله تعالى أدخله الله الجنة۔(کنز العمال :44279)آٹھویں صورت : کپڑوں کو رِیاء و تکبّر کے طور پر پہننا :لِباسِ شہرت کسے کہتے ہیں : لِباسِ شہرت اُس لِباس کو کہاجاتا ہے جس کو لوگوں کو دکھانے کے لئے پہنا جائے، خواہ فخر و غرور کے طور پر ہو یا زہد و تقویٰ کے ظاہر کرنے کی غرض سے ہو ۔(بذل المجہود :16/356) آج کل ریاکاری اور دکھاوے لئے پہنے جانے کپڑوں کا مردوں اور عورتوں میں بہت رواج ہوگیا ہے ،تقریبات میں شادی بیاہ کے موقع پر تو باقاعدہ اس کا ایک مقابلہ ہوتا ہے ،اس کے علاوہ بھی عام روز مرّہ کی زندگی میں کپڑا خریدتے اور پہنتے ہوئے ہمیشہ لوگوں کی جانب نظر رہتی ہے کہ لوگ کیا کہیں گے ، لوگوں کو پسند آئے گا یا نہیں ، حالآنکہ کپڑا اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی