کارکنان تبلیغ کے لیے مولانا محمد الیاس صاحب کی مفید باتیں اور اہم ہدایاتت |
عوت وتب |
|
فائدہ: ان اعمال نبوت میں سے بعض کاموں کو ہمارے علماء وفقہاء نے دلائل کی روشنی میں منع فرمادیا ہے جن میں سے بعض یہ ہیں : (۱) عورتوں کا مساجد میں آنا خواہ نماز پڑھنے کی غرض سے ہو، عوارض و مفاسد کی بنا پر فقہاء نے منع کیا ہے، ممانعت کے شرعی دلائل کتب فقہ میں مذکور ہیں ۔ (۲) امارت وسیاست اور حکومت وعسکریت سے متعلق مشورے واجلاس اور لشکر کی ترتیب بھی ممنوع ہے، کیونکہ آج کے دور میں عموماً سیاست اتنی گندی ہوچکی ہے اور ارباب سیاست وحکومت دینی و اخلاقی پستی کے اس درجہ کو پہنچ چکے ہیں کہ اس حالت میں رہتے ہوئے ان کاموں کو انجام دینے کے وقت مسجد کی حرمت و آداب کو برقرار نہیں رکھا جاسکتا، اور رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان ’’جنبوا مساجدکم صبیانکم وخصوماتکم وحدودکم وشراء کم وبیعکم‘‘ ۔ (طبرانی، جمع الفوائد ۱؍۵۰۱،حدیث:۹۶۷) اور ایک روایت میں ہے ورفع أصواتکم(یعنی اپنی مساجد کو بچوں سے اور آواز کے بلند ہونے سے اور خصومات، حدود اور بیع و شراء سے محفوظ رکھو) کے صریح خلاف لازم آنے کا احتمال ہی نہیں یقین ہے۔اس لیے اس کی بھی اجازت نہیں دی جاسکتی۔ (۳) یہی صورت حال مقدمات اور فصل خصومات کی بھی ہے، کہ موجودہ حالات میں قضاء اور فصل خصومات کی اجازت دینے سے مسجد کی حرمت کو باقی ہی نہیں رکھا جاسکتا، اور نہ ہی ناپاک اور جنبی لوگوں کو مسجد میں داخلہ سے باز رکھا جاسکتا ہے اور صحابہ پر قیاس قیاس مع الفارق ہے۔ (۴) اسی طرح ضرورت شدیدہ کے بغیر اجرت کے ساتھ یعنی تنخواہ دے کر مسجد میں قرآن پاک اور دینی تعلیم کو بھی فقہاء نے منع فرمایا ہے۔ باقی رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کے عہد میں مسجد نبوی جن اعمال سے معمور اور آباد رہتی تھی ان میں سے بعض اعمال کی تفصیل درج ذیل ہے، جن سب کا حاصل مقاصد