کارکنان تبلیغ کے لیے مولانا محمد الیاس صاحب کی مفید باتیں اور اہم ہدایاتت |
عوت وتب |
|
ناقابل قبول ہے، مردود ہے۔ ایسے ہی امور کو بدعت اوراحداث فی الدین کہتے ہیں ۔ دوسری چیز ہوتی ہے وسائل فی الدین، یعنی دین میں ایک عمل مقصود و مطلوب ہے، لیکن اس عمل کے لیے شریعت نے کسی خاص طریقہ اور خاص کیفیت و ہیئت کا پابند نہیں بنایا بلکہ زمانہ کے تغیرات اور بندوں کے حالات ، صلاحیت، لیاقت، موقع محل اور مزاجوں کی رعایت کرتے ہوئے ان کو اختیار دیا ہے کہ جو طریقہ مناسب اور مفید ہو اپنی صوابدید اور تجربہ کے مطابق اس کو اختیار کریں بشرطیکہ کسی حکم شرعی کے خلاف وہ طریقہ نہ ہو۔ مثلاً شریعت میں اعلاء کلمۃ اللہ کے خاطر جہاد مطلوب ہے اسی طرح حق کی اشاعت اور دعوت و تبلیغ کے لیے امر بالمعروف و نہی عن المنکر مطلوب ہے لیکن شریعت نے اس کا کوئی خاص طریقہ نماز روزہ کی طرح متعین نہیں کیا کہ بندے بس خاص اسی طریقہ کے پابند رہیں بلکہ زمانہ اور حالات کے لحاظ سے بندوں کو اختیار دیا ہے حسب موقع، حسب ضرورت، حسب مصلحت جو طریقہ مناسب اور مفید سمجھ میں آئے اس کو اختیار کریں ، اگر چہ بظاہر نیا طریقہ معلوم ہو، جو شریعت میں منصوص نہ ہو یا اسلاف و مشائخ سے منقول بھی نہ ہو، لیکن جب تجربہ سے اس کا مفید ہونا ثابت ہو تو اس کو اختیار کرنے میں کوئی حرج نہیں ، نہ ہی اس کو بدعت کہا جاسکتا ہے، ایسے ہی اعمال کو شریعت میں اِحداث للدین اور وسائل سے تعبیر کرتے ہیں یعنی دین میں ایجاد نہیں بلکہ دین کے لیے بمنزلہ وسائل کے نئی صورت کو اختیار کیا جائے جیسے جہاد رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کے زمانہ میں نیزہ اور تلوار، تیر و کمان سے ہوتا تھا لیکن اب بجائے اس کے بندوق اور توپوں کے ذریعہ ہوتا ہے تو اس کو بدعت نہیں کہا جائے گا۔ یہی حال دعوت و تبلیغ کا بھی ہے کہ دعوت الی الخیر اور امر بالمعروف ونہی عن المنکر جو شریعت میں مقصود ہے لیکن اس کا کوئی خاص طریقہ شریعت نے متعین نہیں کیا، زمانہ اور حالات کے لحاظ سے اسباب کے درجہ میں جو صورت بھی اختیار کی جائے گی، وہ بلاشبہ درست ہوگی، نہ اس کو غلط کہا جائے گا اور نہ ہی منقول نہ ہونے کی وجہ سے بدعت کہا جائے