کارکنان تبلیغ کے لیے مولانا محمد الیاس صاحب کی مفید باتیں اور اہم ہدایاتت |
عوت وتب |
|
جس کی تبلیغ تدریس کے ذریعہ ہی ہوسکتی ہے(مثلاً شرکت مضاربت، سود، رہن وغیرہ کے دقیق مسائل)۔ وہ تو اہل مدارس انجام دے رہے ہیں ، لیکن فرض عین والے حصہ کے لیے کیا طریقہ اختیار کرنا چاہئے، آیا انہیں جماعتوں میں احکام و مسائل کی تبلیغ کو شامل کرلیا جائے، یا اس کے لیے مستقل جماعت اور وفود کی شکل میں یا کیمپوں کی شکل میں حسب موقع و حسب ضرورت احکام کی تبلیغ و تعلیم کا نظام بنایا جائے، یا درس قرآن، درس حدیث وفقہ کے عنوان سے کوئی نظام تجویز کیا جائے،تقریر کے ذریعہ یا تحریر کے ذریعہ، کچھ بھی ہو یہ کرنے کا ایک ضروری کام ہے جس کی طرف حضرت مولانا الیاسؒ توجہ دلاگئے ہیں ، اور رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ کام کیا ہے ، اب اصحاب تبلیغ سوچیں کہ اس کام کو آگے کیسے بڑھایا جائے۔ میوات میں جانے والی جماعتیں جو تبلیغی کام میں پختہ ہوگئے تھے ان کو آپ نے یہ حکم دے دیا تھا کہ فرائض یعنی میراث کے سلسلہ کے وعدہ اور وعیدوں پر مشتمل احکام خوب یاد کرکے جائیں اور ان کے سامنے بیان کریں ۔ (ملفوظات مولانا محمد الیاس صاحبؒ ملفوظ:۱۲۶، ص:۱۰۵) میراث ہی کی تخصیص نہیں ، جیسا طبقہ اور جیسا مجمع ہو ان کی ضرورت کے لحاظ سے ان کو احکام شرعیہ کی طرف متوجہ کرنا چاہئے، یا خاص وقت اور زمانہ کے لحاظ سے اس وقت کے احکام کی طرف توجہ دلانا چاہئے مثلاً محرم الحرام، یا قربانی کے ایام آئیں اس وقت محرم و قربانی کے ضروری احکام بیان کرنا چاہئے، شب برأت، رمضان اور عبد الفطر کا موقع آئے تو اس وقت کے ضروری احکام بیان کرکے ان کی تبلیغ کرنا چاہئے اور یہ بیان علماء ہی کے ذریعہ ہوگا، حضرت مولانا محمد الیاس صاحبؒ کی اس فکر کے پیش نظر یہ خیال صحیح نہیں معلوم ہوتا کہ ہمارے مرکز اور ہمارے اجتماع سے صرف ایمان و یقین اور تشکیل ہی کی بات ہوگی، دوسرے موضوع کے ضروری مضامین وقتیہ کا بھی بیان نہیں ہوگا، یہ فکر اور نقطۂ نظر کتاب و