کارکنان تبلیغ کے لیے مولانا محمد الیاس صاحب کی مفید باتیں اور اہم ہدایاتت |
عوت وتب |
|
ہے ، جنت کی زبان ہے، معمولی غلطی سے معنی بدل جاتے ہیں ، سین سے ’’سیف‘‘ کے معنی تلوار کے ہیں ، اور صاد سے ’’صیف‘‘ کے معنی ’’گرمی‘‘ کے ہیں ، ’’قلب‘‘ کے معنی ’’دل‘‘ کے ہیں اور چھوٹے کاف سے ’’کلب‘‘ کے معنی ’’کتّے‘‘ کے ہیں لیکن قراء ت قرآن میں اس قسم کی غلطیوں سے بچنے کی طرف لوگ توجہ نہیں کرتے حالانکہ نہ معلوم اس طرح کی غلطیوں سے کتنے معنی بدل جاتے ہوں گے، اس لیے حضرت مولانا محمد الیاس صاحبؒ نے تجوید کے ساتھ قرآن سیکھنے اور نماز کے جملہ ارکان کو صحیح طریقہ کے مطابق ادا کرنے کی ہدایت فرمائی ہے۔ الغرض قبولیت صلوۃ کے لیے (۱) اخلاص بھی ضروری ہے (۲) اور نماز میں پڑھی جانے والی چیزوں کا درست ہونا بھی ضروری ہے (۳) اور نماز کے ارکان کی ادائیگی یعنی رکوع سجدہ وغیرہ کی ہیئت کا سنت کے مطابق ہونا (۴) اور دل سے اللہ کی متوجہ رہنا بھی ضروری ہے (۵) اور اس سب کے ساتھ پوری نماز مسئلہ کے موافق ہونا بھی شرط ہے، ایسی ہی نماز خشوع والی نماز کہلاتی ہے جو عند اللہ مقبول ہوتی ہے ورنہ خطرہ ہے کہ وہ نماز سیاہ رنگ میں بددعا دیتی ہوئی چلی جائے۔ رسول اللہ ﷺکی ایک دعاہے :اَللّٰہُمَّ اِنِّیْ اَسْئَلُکَ تَمَامَ الْوُضُوْئِ وَتَمَامَ الصَّلوٰۃِ۔اے اللہ میں آپ سے سوال کرتاہوں میرا وضواور میری نمازکو کامل کردیجئے، اس سے معلوم ہواکہ وضواور نماز کامل بھی ہوتی ہے اورناقص بھی ،ناقص نماز کے متعلق ہی رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ وہ عنداللہ مقبول نہیں ہوتی ،پرانے کپڑے کی طرح لپیٹ کرمنھ پر پھینک کر ماردی جاتی ہے،بعض صحابہ کو آپ نے جلدی جلدی خلاف سنت نماز پڑھتے دیکھاتو نماز کے اعادہ کا حکم دیا اور فرمایاجس طرح میں نماز پڑھتا ہوں اس طرح نماز پڑھو ، ایک صحابی نے اس حال میں نماز پڑھی کہ ان کا لباس ٹخنوں سے نیچے تھا، آپ نے ان کو بلا کر فرمایا، پھر سے وضو کرو اور پھر سے نماز پڑھو، اور ارشاد فرمایا: إن اﷲ لایقبل صلوٰۃ رجل مسبلٍ‘‘ کہ اللہ تعالیٰ ایسے شخص کی نماز کو قبول نہیں کرتا جس کا