عورت کا اپنی قربانی کا جانور خود ذبح کرنا
مسئلہ(۶۳): بعض لوگ یہ کہتے ہیں کہ عورت کا اپنی قربانی کا جانور خود اپنے ہاتھ سے ذبح کرنا درست نہیں ہے، جب کہ صحیح بات یہ ہے کہ عورت اگر ذبح کرنے پر قادر ہو، تو وہ اپنے قربانی کے جانور کو خود ذبح کرسکتی ہے ، اور ذبیحہ بھی درست ہے ۔(۱)
------------------------------
=کتابیاً ۔۔۔۔۔۔۔ قاصداً التذکیۃ ولو کان مکرہاً ذکراً أو أنثیٰ طاہراً أو حائضاً أو جنبیاً ۔
(۴/۲۷۶۳، کتاب الذبائح)
ما فی ’’ النتف فی الفتاوی ‘‘ : فإن ذبح کل مسلم وکل کتابی (حلال) رجلاً کان أو أنثیٰ ، حراً کان أو عبداً ، جنباً کان أو طاہراً ۔ (ص/۱۴۷، کتاب الذبائح والصید)
(فتاوی محمودیہ : ۱۷/۲۳۰،المسائل المہمۃ:۴/۱۷۹)
الحجۃ علی ما قلنا :
(۱) ما في ’’ صحیح البخاري ‘‘ : عن نافع انہ سمع ابن کعب بن مالک یحدث عن أبیہ أنہ کانت لہ غنم ترعی بسلع ۔ فأبصرت جاریۃ لنا بشاۃ من غنمنا موتا فکسرت حجرا فذبحتہا بہ فقال لہم : لا تأکلوا حتی أسال رسول اللہ ﷺ أو أرسل إلی النبي ﷺ من یسألہ وأنہ سأل النبي ﷺ عن ذاک أو أرسل فأمرہ بأکلہا ۔ قال عبید اللہ : فیعجبني انہا أمۃ وأنہا ذبحت ۔ (ص/۴۰۱،۴۰۲، کتاب الوکالۃ ، باب إذا أبصر الراعي أو الوکیل شاۃ تموت أو شیئا یفسد ذبح أو أصلح ما یخاف علیہ الفساد ، انعام الباري :۶/۵۱۷، رقم الحدیث :۲۳۰۴)
ما فی ’’ صحیح البخاري ‘‘ : عن نافع عن ابن لِکَعْبِ بن مالک عن أبیہ أن امرأۃ ذبحت شاۃ بحجر ، فسئل النبي عن ذلک ، فأمر بأکلہا ۔
(۲/۸۲۷ ، کتاب الذبائح والصید ، باب ذبیحۃ الأمۃ والمرأۃ)=