قربانی کے سلسلے میں ایک غلطی
مسئلہ(۱۳): بعض لوگ قربانی کے سلسلہ میں یہ غلطی کرتے ہیں کہ کسی سال اپنی بیوی کے نام سے ، تو کسی سال خود اپنے نام سے، تو کسی سال اپنے گھر کے کسی بڑے فرد کے نام سے قربانی کرتے ہیں، یعنی ہر سال گھر کے کسی ایک ہی فرد کے نام سے قربانی کرتے ہیں، اور یہ خیال کرتے ہیں کہ اس طرح کرنے سے گھر کے تمام افراد کے ذمہ سے قربانی کا وجوب ساقط ہوجاتا ہے، ان کا یہ خیال غلط ہے، صحیح بات یہ ہے کہ گھر کا جو جو فرد صاحبِ نصاب ہے، اس پر قربانی واجب ہے، محض کسی ایک فرد کے نام سے قربانی کردینے سے تمام اہلِ خانہ کا واجب ادا نہ ہوگا۔(۱)
------------------------------
الحجۃ علی ما قلنا :
(۱) ما في ’’ بدائع الصنائع ‘‘ : وأما شرائط الوجب ؛ منہا الغنی لما روی رسول اللہ ﷺ أنہ قال : ’’ من وجد سعۃ فلیضحّ ‘‘ شرط علیہ السلام السعۃ وہي الغنی ۔
(۶/۲۸۳،کتاب التضحیۃ)
ما في ’’ الفقہ الحنفي في ثوبہ الجدید ‘‘ : الأضحیۃ واجبۃ علی کل حرّ مسلم مقیم موسر في یوم الأضحی عن نفسہ ۔ (۵/۲۰۰)
ما في ’’ المحیط البرہاني ‘‘ : وشرط وجوبہا الیسار عند أصحابنا رحمہم اللہ ، والموسر في ظاہر الروایۃ من لہ مائتا درہم أو عشرون دیناراً أو شيء یبلغ ذلک سوی مسکنہ ومتاع مسکنہ ومتاعہ مرکوبہ۔ (۶/۴۶۹ ، کتاب الأضحیۃ ، التنویر الأبصار وشرحہ مع الشامیۃ :۹/۴۵۴ ، کتاب الأضحیۃ ، بیروت)
(فتاوی محمودیہ :۲۶/۲۳۸، مکتبہ محمودیہ میرٹھ، المسائل المہمۃ:۵/۱۲۴)