حق الخدمت کے طور پر قربانی کا گوشت
مسئلہ(۳۵): بعض علاقوں میں یہ رواج ہے کہ قصائی، نائی ، دھوبی اور بھنگی وغیرہ قربانی کا گوشت حق الخدمت کہہ کر مانگتے ہیں، اور نہ دینے پر ناراض ہوتے ہیں اور یہ سمجھتے ہیں کہ اُن کا حق الخدمت مار لیا گیا، اُن لوگوں کا حق الخدمت کے طور پر قربانی کا گوشت مانگنا اور قربانی کرنے والے شخص کا حق الخدمت کے طور پر دینا، دونوں عمل درست نہیں ہیں(۱)، لیکن اگر کسی نے اس طرح دے دیا، تو جس قدر دیا اس کی قیمت صدقہ کرنا واجب ہے(۲)، اور اگر اِن لوگوں کو بغیر حق الخدمت کے قربانی کا گوشت دیا جائے تو کوئی مضائقہ نہیں ہے۔(۳)
------------------------------
الحجۃ علی ما قلنا :
(۱) ما في ’’ السنن الکبری للبیہقي ‘‘ : عن علي رضي اللہ عنہ قال : ’’ أمرني رسول اللّٰہ ﷺ أن أقوم علی بدنۃ وأن أقسم جلودہا وجلالہا وأمرني أن لا أعطي الجازر منہا شیئًا ، وقال : نحن نعطیہ من عندنا ‘‘ ۔ (۹/۴۹۵ ، کتاب الضحایا ، باب لا یبیع من أضحیتہ شیئًا ولا یعطي أجر الجازر منہا ، رقم : ۱۹۲۳۲ ، تبیین الحقائق : ۶/۴۸۶ - ۴۸۷)
ما في ’’ التنویر وشرحہ مع الشامیۃ ‘‘ : ولا یعطي أجر الجزار منہا لأنہ کبیع ۔ قال الشامي رحمہ اللہ تعالی : قولہ : (لأنہ کبیع) لأن کلا منہا معاوضۃ ، لأنہ إنما یعطي الجزار بمقابلۃ جزرہ ، والبیع مکروہ ، فکذا ما في معناہ ۔ (۹/۷۵ ، کتاب الأضحیۃ)
ما في ’’ البحر الرائق ‘‘ : (ولا یعطي أجرۃ الجزار منہا شیئا) والنہي عنہ نہی عن البیع لأنہ في معنی البیع لأنہ یأخذہ بمقابلۃ عملہ فصار معاوضۃ کالبیع ۔ (۸/۳۲۷ ، کتاب الأضحیۃ)
(۲) ما في ’’ التنویر وشرحہ مع الشامیۃ ‘‘ : فإن بیع اللحم أو الجلد بہ أي بمستہلک أو بدراہم تصدق بثمنہ ۔ (۹/۴۷۵ ، کتاب الأضحیۃ) (المسائل المہمۃ:۶/۱۶۶، مسئلہ:۱۲۱)
(۳) ما في ’’ اعلاء السنن ‘‘ : ما یدفعہ إلی الجزار أجرۃ عوض عن عملہ وجزارتہ ، ولا تجوز المعاوضۃ بشيء منہا ، فأما إن دفع إلیہ لفقرہ أو علی سبیل الہدیۃ فلا بأس ۔ (۱۷/۲۹۰ ، رقم : ۵۶۰۰)