(قادیانی مولوی کی اردو دانی) قادیانی مولوی اپنے رسالہ میں جابجا علامہ ممدوح کی اردو دانی پر منہ آئے ہیں۔ مگر خود ان کی اور ان کے پیر ومرشد مرزا قادیانی آنجہانی کی اردو دانی اسی ایک جملہ سے ظاہر ہوتی ہے۔ جو قادیانی مولوی مولوی کے رسالہ کے ص۲۱ میں ہے۔
مرزا قادیانی پیر مہر علی شاہ کے مقابلہ کا ذکر کرکے اپنی نسبت لکھتے ہیں۔ ’’لیکن بعد اس کے ان کو میری نسبت بکثرت روایتیں پہنچ گئیں۔ کہ اس شخص کی قلم، عربی نویسی میں دریا کی طرح چل رہی ہے۔‘‘ مذکر کو مونث سمجھنا الٹی سمجھ نہیں ہے تو کیا ہے؟ اردو خواں بچے بھی جانتے ہیں کہ قلم مذکر ہے۔ مگر پنجابی سلطان القلم اس کو مونث بتا رہے ہیں۔
اور ان کے ایک بنگالی ایڈووکیٹ نہایت ہی دلیری سے اس کو نقل کرتے ہیں اور لطف یہ ہے کہ ایسے شخص کی اردودانی پر حملہ کرتے ہیں۔ جو اردو کی دارالسلطنت کے قریب کا رہنے والا ہے اور اہل زبان ہونے کا دعویٰ کرسکتا ہے۔
مولوی صاحب ذرا دیوان ذوق اٹھا کر دیکھیں۔ ردیف الالف میں پہلا شعر یہ ہے۔
ہوا حمد خدا میں دل جو مصروف رقم میرا
الف الحمد کا سا بن گیا گویا قلم میرا
نہیں معلوم یہ ٹھوکر کس کو لگی ہے؟ مولوی صاحب کو یامرزا قادیانی کو؟
مولوی صاحب اپنے رسالہ کے ص۱۴۳ میں لکھتے ہیں: ’’مگر ناظرین یہ ٹھوکر بوجہ نہیں غور کرلے۔ لفظ تقول اور اقاویل کے حاصل ہوئی ہے۔‘‘
پیارے ناظرین!
ذرا قادیانی مولوی سے دریافت کیجئے کہ ٹھوکر حاصل ہوئی کہاں کا محاورہ ہے؟ دہلی کا یا لکھنؤ کا۔ گورداسپور کا یا بھاگلپور کا۔ شرم۔ شرم۔ شرم۔
مولوی صاحب شکایت کرتے ہیں کہ علامہ ابو احمد رحمانی نے مرزا قادیانی کی عربی عبارتوں میں صرفی، نحوی اور فصاحت وبلاغت کی رو سے دو چار غلطیاں بھی نہیں دکھائیں۔ جواباً گزارش ہے کہ آپ گھبرائیں نہیں۔ عنقریب ایسے رسالے شائع ہوں گے۔ جن میں مرزا قادیانی کی عربی دانی، فارسی دانی اردو دانی کی قلعی کھولی جائے گی اور ان کے علمی مبلغ پر پوری روشنی ڈالی جائے گی۔ انشا ء اﷲ تعالیٰ
ابتدائے عشق ہے روتا ہے کیوں
آگے آگے دیکھ تو ہوتا ہے کیا