کارکنان تبلیغ کے لیے مولانا محمد الیاس صاحب کی مفید باتیں اور اہم ہدایاتت |
عوت وتب |
|
سونے پر سہاگہ ہے۔ (فضائل قرآن، تشریح حدیث نمبر۲۵ ص:۲۴۴) (خلاصہ یہ کہ ترتیل و تجوید کے ساتھ قرآن پاک پڑھنا مطلوب ہے، قرآن پاک میں بھی اس کا حکم دیا گیا ہے اور حدیث پاک میں بھی، ترتیل سے پڑھنا کس کو کہتے ہیں اس کے متعلق شیخ الحدیث حضرت مولانا محمدزکریا صاحبؒ، شاہ عبد العزیزؒکے حوالہ سے تحریر فرماتے ہیں :) ’’ترتیل لغت میں صاف اور واضح طور سے پڑھنے کو کہتے ہیں ، اور شرع شریف میں کئی چیز کی رعایت کے ساتھ تلاوت کرنے کو کہتے ہیں : (۱) اول حرفوں کو صحیح نکالنا یعنی اپنے مخرج سے پڑھنا، تاکہ طا کی جگہ تا، اور ضاد کی جگہ ظا نہ نکلے۔ (۲) دوسرے وقوف کی جگہ پر اچھی طرح سے ٹھہرنا تاکہ وصل اور قطع کلام کا بے محل نہ ہوجائے (یعنی بے موقع سانس نہ توڑے)۔ (۳) تیسرے حرکتوں میں اشباع کرنا، یعنی زیر، زبر، پیش کو اچھی طرح سے ظاہر کرنا۔ (۴) چوتھے آواز کو تھوڑا سا بلند کرنا تاکہ کلام پاک کے الفاظ زبان سے نکل کر کانوں پر پہنچے اور وہاں سے دل پر اثر کریں (بشرطیکہ اس سے دوسروں کو تکلیف نہ ہو، مثلاً سونے کے وقت میں سونے والوں کی نیند خراب نہ ہو، نماز کے وقت میں زور سے پڑھنے سے نمازیوں کو خلل نہ ہو)۔ (۵) پانچویں آواز کو ایسی طرح سے درست کرنا کہ اس میں درد پیدا ہوجائے اور دل پر جلدی اثر کرے اور درد والی آواز دل پر جلداثر کرتی ہے۔ (۶) چھٹے تشدید اور مد کو اچھی طرح ظاہر کیا جائے کہ اس کے اظہار سے کلام پاک میں عظمت ظاہر ہوتی ہے اور تاثیر میں اعانت ہوتی ہے۔ (۷) ساتویں آیاتِ رحمت و عذاب کا حق ادا کرے (یعنی آیاتِ رحمت میں اللہ سے امید رکھے اور