ملفوظات حکیم الامت جلد 17 - یونیکوڈ |
|
کے مناسب کی ۔ ملفوظ ( 420) حقیقت مجاہدہ استفسار پر فرمایا کہ کچھ مادے خراب پیدائشی بھی ہوتے ہیں لیکن ان کے متقضاء پر عمل نہ کرنا چاہیے یہی مجاہدہ ہے ۔ ملفوظ ( 421) عشق مجازی میں گرفتار ذی علم علاج ایک ذی عشق مجاز میں مبتلا ہوگئے ان کو دھوکہ ہوا کہ یہ نفسانی محبت نہیں ۔ حضرت نے قطعا محبوب سے علیحدگی کرادی ان صاحب کی رائے ہوئی کہ اس افتراق سے بجائے نفع کے نقصان ہوا وہ کہتے تھے کہ میں تو اپنی طبیعت سے خوب واقف ہوں اگر مجھے علیحدہ نہ رکھا جائے تو میں ان سے بلا سے نکل کر دکھلادوں وہ یہ بھی کہتے تھے کہ گوز ہرعام طبائع کے اعتبار سے مضر ہے ۔ لیکن بعض خاص طبائع کیلئے مفید ثابت ہوتا ہے ۔ حضرت کو ان کی اس رائے کی اطلاع ہوئی تو فرمایا کہ اول تو مریض کو حق نہیں کہ طبیب کی تجویذ میں داخل دے دوسرے یہ کہ زہر تو کبھی جائز بھی ہے لیکن معصیت تو ہرحال میں معصیت ہے اور ان کو اپنی نیت کا حال خود ہی معلوم ہے کہ اچھی ہے یا بری میں تو نفسانی محبت سمجھتا ہوں پھر اختلاط کی کیسے اجازت دے سکتا ہوں ۔ البتہ خود ان کو اپنی نیت کا حال معلوم ہے اگر وہ اس کی معصیت نہیں سمجھتے تو وہ بطور خود جوتدبیر نافع سمجھیں کریں مگر اس طور کہ مجھے علم نہ ہو کیونکہ جب میں معصیت سمجھتا ہوں تو میں اجازت دیکر کیوں گنہگار بنوں ۔ پھر فرمایا کہ یہ ان کا خیال غلط ہے کہ اختلاط سے کمی ہوجائے گی اسی وقت ایک تسلی سی ہوجاتی ہے لیکن پھر افتراق کے بعد معلوم ہوتا ہے کہ محبت کم ہوئی ۔ بلکہ اور زیادہ بڑھ گئی یہ بھی فرمایا کہ یہ نفسانی ہی محبت ہے لیکن انکے سمجھ میں نہیں آتا اور ان کی گریہ بکاکی حالت سن کر ہنس کر فرمایا کہ برسات کا موسم ہے ۔ ہوا ہے بارش ہے سب ٹھیک ہوجائیں گے میرے دل میں حق تعالٰی نےڈال رکھا ہے کہ انہیں جلد اس سے نجات ہوجائے گی ۔ اس لئے مجھے اطمینان ہے انہوں نے اس کو اپنی تو ہمات سے اور بھی بڑھالیا ہے اور بہت بڑا سمجھ رکھا ہے مجھے معمولی بات معلوم ہوتی ہے پھر فرمایا کہ مبتلا پر غصہ مجھ کو نہیں آتاہے ۔