تعلیم الاسلام مکمل- یونیکوڈ - غیر موافق للمطبوع |
|
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے :۔ مِفْتَاحُ الصَّلٰوةِ الطَّہُوْرُ (ترمذی)۔ یعنی ”نماز کی کنجی (یا شرط) طہارت ہے“۔فرائضِ وضو کے باقی مسائل سوال۔ دھونے کی حد کیا ہے جسے دھونا کہہ سکیں ؟ جواب۔ اتنا پانی ڈالنا کہ عضو پر بہہ کر ایک دو قطرے ٹپک جائیں دھونے کی ادنیٰ مقدار ہے اس سے کم کو دھونا نہیں کہتے۔ مثلاً کسی نے ہاتھ بھگو کر منہ پر پھیر لیا اس قدر تھوڑا پانی منہ پر ڈالا کہ وہ بہہ کر منہ پر ہی رہ گیا، ٹپکا نہیں تو یہ نہیں کہا جائے گا کہ اس نے منہ دھویا اوروضو صحیح نہ ہوگاسوال۔ جن اعضاء کا دھونا وضو میں فرض ہے انہیں کتنی مرتبہ دھونے سے فرض ادا ہو گا؟ جواب۔ ایک مرتبہ دھونا فرض ہے اور اس سے زیدہ تین مرتبہ دھونا سنت ہے اور تین مرتبہ سے زیادہ دھونا ناجائز اور مکروہ ہےسوال۔ کہاں سے کہاں تک منہ دھونا فرض ہے؟ جواب۔ پیشانی کے بالوں کی جگہ سے ٹھوڑی کے نیچے تک اور ایک کان کی لَو سے دوسرے کان کی لَو تک دھونا فرض ہے سوال۔ جن اعضاء کا دھونا فرض ہے ان میں سے اگر تھوڑی سی جگہ خشک رہ جائے تو وضو درست ہوگا یا نہیں؟ جواب۔ اگر ایک بال کے برابر بھی کوئی جگہ سوکھی رہ جائے تو وضو نہ ہوگاسوال۔ اگر کسی شخص کے چھ انگلیاں ہوں تو چھٹی انگلی کا دھونا فرض ہے یا نہیں؟