اس کا جواب یہ ہے کہ وہاں کے لوگوں کا اپنی رائج غذاؤں میں سے کسی چیز کا صدقۂ فطر میں دے دینا کافی نہیں ہے؛بل کہ منصوص اشیا میں سے کسی ایک کی قیمت دینا چاہے ۔
’’ الدرالمختار ‘‘میں ہے :
’’ ومالم ینص علیہ یعتبر فیہ القیمۃ ‘‘۔
p: یعنی جو چیزیں منصوص نہیں ، ان میں قیمت کا اعتبار ہوگا ۔ (۱)
اب رہا یہ سوال کہ قیمت کس اعتبار سے دی جائے، تو اس کا جواب یہ ہے کہ ان علاقوں سے قریب جو علاقے ایسے ہیں ، جہاں یہ منصوص اشیا ملتی ہیں ، وہاں کی قیمت کا اعتبار کیا جائے گا۔فتا ویٰ محمو دیہ میں حضرت اقدس مولانا مفتی محمود حسن گنگوہی رحمہ اللہ نے بھی اسی قسم کے ایک سوال کے جواب میں یہی تحریر فرمایا ہے۔ (۲)
------------------------------
(۱) الدرالمختارمع الشامی:۳/۳۱۹
(۲) چناں چہ اسی مسئلے کے متعلق تفصیلاًگفتگوکرنے کے بعدحضرت مفتی محمودصاحب رحمہ اللہ
لکھتے ہیں کہ
’’مقاماتِ خط کشیدہ میں سے، جو مقام آپ کے زیادہ قریب ہواور وہاں اشیائے منصوصہ ملتی ہوں ،وہیں کے نرخ کااعتبارکرلیاجاوے‘‘۔ (فتاویٰ محمودیہ :۷/ ۲۷۴)