(کھجور) حنطہ (گیہوں )اقط (پنیر) اور زبیب ( کشمش ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے زمانے میں اور حضراتِ صحابۂ کرام کے زمانے میں انہی پانچ چیزوں سے صدقۂ فطر دیا جاتا تھا ،جیسا کہ روایات میں آیاہے ۔(۱)
احادیث کی روشنی میں علمائے حنفیہ نے لکھا ہے کہ گیہوں دینا ہو، تو نصف صاع اور دوسری چیزیں دینا ہو، تو ایک صاع دینا چاہیے(اور صاع کی مقدار پہلے گذر چکی ہے اور اگر قیمت دینا ہو، تو بھی اسی لحاظ سے قیمت دینا چاہیے کہ گیہوں میں نصف صاع کی اور دیگر اشیا میں ایک صاع کی قیمت ۔(۲)
مگر یہاں ایک سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ بعض علاقے ایسے ہیں ، جہا ں یہ منصوص اشیا پیدا ہی نہیں ہوتیں اور وہاں کے لوگوں میں ان چیزوں کے استعمال کا رواج بھی نہیں ہے؛بل کہ وہاں دوسری چیزیں کھائی جاتی ہیں ،یہ لوگ اگر اپنی جگہ کی رائج غذاؤں میں سے کوئی چیز صدقۂ فطر میں دے دیں ، تو جائز ہوگا ؟ اگر نہیں تو منصوص اشیا کی قیمت کس اعتبار سے ادا کریں ؛ جب کہ وہاں یہ چیزیں پیدا ہی نہیں ہو تیں اور نہ ملتی ہیں ؟
------------------------------
(۱) البخاري :۲۹۳-۲۹۴ ،الرقم:۱۵۰۵-۱۵۱۲، المسلم :۳۷۹-۳۸۱،الرقم:۹۸۴ -۹۸۵،الترمذي:۲/۵۱ ۵۵،الرقم،-۶۷۶۶۷۳ ، أبوداود : ۲/۳۴۶ - ۳۵۲،الرقم، ۱۶۰۷- ۱۶۱۹،السنن الکبریٰ للنسائي:۳/ ۳۶-۴۳، الرقم:۲۲۹۱ -۲۳۰۹،سنن ابن ماجہ:۳/۲۸۳ -۲۸۷،الرقم،۱۸۲۵ - ۱۸۳۰، السنن الکبریٰ للبیہقي :۴/۲۶۹-۲۸۵، ۷۶۷۰-۷۷۱۵
(۲) قال: [یجب نصف صاع من بر أو دقیقہٖ أو سویقہٖ أو زبیب أو صاع تمر أو شعیر]ولو ردیئاً وما لم ینص علیہ کذرۃ وخبز یعتبر فیہ القیمۃ ۔
(الدرالمختارمع الشامي:۳/۳۱۸-۳۱۹، البحرالرائق :۲/۴۴۱-۴۴۳، الہدایۃ: ۲/۲۳۵ ،نورالإیضاح : ۲۶۳ )