’’مجتہد ین فی المذہب‘‘ پیدا ہو تے رہیں گے،جو اپنے مذہب کے اُصول وقواعد کی بنیاد پر تخریج واستنباط کا فر ض انجا م دیتے رہیں گے۔
دورِ حاضر میں جن مسائل کی تحقیق، تخریج اور تطبیق کی ضرورت ہے، ان ہی میںسے بعض مسائل وہ ہیں،جو سوال نامہ کی شکل میں ’’اکیڈمی‘‘ کی طر ف سے تمام مندوبین کو روانہ کیے گئے ، ہم ان مسائل سے متعلق بالترتیب اپنی آراء کو تحریر کرتے ہیں۔
اللہ ہم سب کو اصابتِ رائے کی دولت سے مالا مال فرمائے۔ آمین!
تعلیمی قرضے ، اُن کی صورتیں اور احکام
سوال:۱- جدید اعلیٰ تعلیم کے حصول کے بارے میں شریعت کا نقطۂ نظر کیا ہے؟ اور اس سلسلے میں مسلمانوں کا کیا رویہ ہونا چاہیے؟
جواب:۱- کسی بھی قوم کی بقاء ِزندگی اور عزت کے لیے تعلیم اس کی بنیاد ی ضرورت ہے ، یہ ضرورت انفرادی بھی ہے اور اجتماعی بھی، اس سے کسی کو انکار نہیں، اورتعلیم سے مراد ’’دینی تعلیم‘‘ ہے، اس پر بھی جمہورکا اتفاق ہے (۱)، کیوں کہ اسی میں دنیوی واُخروی فلاح وکامیابی مضمر وپوشیدہ ہے ، اور یہی ایک مسلمان کی زندگی کا مقصد ہے ،اسی لیے سرکارِ دوعالم صلی اللہ علیہ وسلم پر رب العالم نے سب سے پہلی جو آیت نازل فرمائی، اُس کا تعلق تعلیم ہی سے ہے، ارشادِ ربانی ہے : {اقرأ باسم ربک الذي خلق} ۔’’پڑھ اپنے رب کے نام سے جس نے پیداکیا۔‘‘ (سورۃالعلق:۱)
مگر اسلامی تعلیم کے ساتھ ساتھ عصری فنون کی تحصیل کی بھی شریعت نے نہ صرف