اختلاف پیدا ہوا، تو ان اقوال ومسائلِ مختلف فیہا میں تصحیح وترجیح کے لیے، اللہ رب العزت نے اصحابِ تصحیح وترجیح کو بھی پیدا فرما یا، جنہوں نے قولِ صحیح وقولِ راجح کی نشان دہی فرما کر، نہ صر ف امتِ مسلمہ پر احسان کیا، بلکہ اسلامی قوانین کو ایسے صاف ستھرے ، روشن اور تابناک شکل وصورت میں پیش فرمایا، کہ وہ دیگرقوانینِ عالم میں ممتاز اور نمایا نظر آتے ہیں، اور ایک منصف طبیعت، صحیح الفطرت انسان بول اٹھتاہے:سچ فرمایا ارض وسماء ، جن وانس کے خالق ومالک نے : {اَلْیومَ اَکملْتُ لَکُم دِینَکُم وَأَتْمَمْتُ عَلیکُم نِعمَتِيْ وَرضِیتُ لَکمُ الاسْلامَ دِیْنًا} ۔ ’’آج میں نے تمہارے لیے دین کو کامل کردیا، اور تم پر اپنی نعمت پوری کردی، اور تمہارے لیے اسلام کو بہ طورِدین کے پسند کرلیا ۔‘‘(سورۂ مائدہ: ۳)
یہ بات ایک حقیت ہے کہ جب تک تصحیح وترجیح کا کام مکمل نہ ہوا، اللہ رب العزت اہلِ تصحیح وترجیح کو پیدا فرماتے رہے ۔ جیسا کہ محقق علامہ ابن ہمام رحمہ اللہ کے تلمیذِ رشید، محقق علامہ شیخ قاسم ابن قطلوبغا رحمہ اللہ فرماتے ہیں:’’ إن المجتھدین لم یفقدوا حتی نظروا في المختلف ورجّحوا وصحّحوا ‘‘ ۔ (عقود رسم المفتي :ص/۱۲۶)
آج عالم گیریت(Globlization)نے بہت سے، نت نئے مسائل لاکھڑے کر دئیے، جن کا شرعی حل اُمت کے سامنے پیش کرنا اُمت کے علماء ومفتیانِ کرام کی ذمہ داری ہے ،اور جب یہ ان کی ذمہ داری ہے، تو ضرور اللہ رب العزت ان میں ایسی اہلیتیں اور صلا حیتیں ودیعت فرمائیں گے ،جو اس ذمہ داری سے عہدہ بر آہونے کے لیے درکار ہیں، کیوں کہ خدائی قانون{لا یکلِّفُ اللّٰہُ نفسًا إلا وُسْعَہَا}اس پر شاہد ہے۔
معلوم ہو ا کہ تخریج واستنباط کا کام تاقیامت جاری وساری رہے گا ، اور ہر زمانے میں