صرف برابری بلکہ بھائیوں کا سا سلوک کرنا چاہیے۔(۳)
۲؍ جومالک کھائے اور پہنے وہ اپنے ملازم ونوکر کو کھلائے اور پہنائے، یعنی آپ جس معیارِ زندگی گزارتے ہیں نوکر بھی اسی معیار کا حق دار ہے ، مزدوروں کاحق مارکر مالک کو عیاشانہ اورامیرانہ زندگی بسر کرنے کی اجازت نہیں، اس سے معلوم ہواکہ یا تو مالک نوکر کو اس قدر اجرت دے کہ وہ بھی مالک کے معیارِ زندگی کی طرح زندگی گزار سکے ، اور اگر یہ ممکن نہیں تو مالک اپنی معیارِ زندگی کو اس سطح تک نیچے لے آئے جس سطح تک وہ اپنے مزدور اور ملازم کی معیارِ زندگی کو بلندکرسکتا ہے۔
۳؍ مزدور کوایسا کام کرنے کو نہ کہے جس کی وہ استطاعت نہیں رکھتا ، یہیں سے مزدور کے اوقاتِ کار کی تعیین کا اصول مستنبط ہوتا ہے ، کہ ایک عام انسان ایک دن میں یا ایک ہفتے میں کس حدتک اور کتنے گھنٹے کام کرسکتا ہے، جو اس کی صحت پر اثر انداز نہ ہو، او رنہ ہی اس کو اپنی ضرورتیں اور اس کے لواحقین ومتعلقین کی ضرورتیں متأثر ہوں۔
زائد محنت کامعاوضہ:
۴؍ اگر کوئی کام وہ نہ کرسکتا ہو تو اس سے یہ کام نہ لے ، اور اگر ضرورت ہے تو خود اس میں اس کاہاتھ بٹاؤ، یہ اخلاق کا بلند تر درجہ ہے، جس میں مالک کی بالادستی وبرتری کے تصور کا ایک حدتک علاج بھی ہے، اور اگر ایسا نہیں کرسکتاتو اس کام کے لیے آدمی بڑھادے، اور اگر کسی کام کا تقاضا یہ ہو کہ وہ اسی دن پورا کرنا ضروری ہے اور مزدور بھی اس کے تکمیل پر راضی ہے، تو اس کوزائد وقت کامعاوضہ دیاجائے۔
مزدور اور غلام کی عزتِ نفس:
مالک پر لازم ہے کہ وہ اپنے ملازم ونوکر کی عزتِ نفس کا پورا خیال رکھے، اس کو ایسے