حمایت کی،بلکہ اس کی ترغیب بھی دی ہے، جیسا کہ احادیثِ نبویہ اس پر شاہد ہیں(۲)،تاکہ انسان ان فنون کے ذریعے دیگر انسانوں کی خدمت کر سکے، انہیں اپنے لیے حلال آمدنی کا ذریعہ بنا سکے، اور ان فنون میں وہ دیگر اقوام کا دستِ نگر نہ رہے۔
رہی دینی تعلیم تو وہ آج بھی مفت دی جارہی ہے، البتہ عصری فنون کی تعلیم بڑی مہنگی ہوچکی، کیوں کہ لوگوں نے اسے ایک نفع بخش تجارت بنا لیا ، اور ان کی تحصیل کواس قدر گراں کر دیا کہ متو سط المعاش لوگوں کے لیے ان تک رسائی انتہائی دشوارگزار امر بن چکا ۔حکو متِ ہند نے ایسے ہی لوگوں کی سہولت کے لیے کم شرح سود پر تعلیمی قرضوں کا نظم کیا ہے ، اور اس کا یہ دعویٰ بھی ہے کہ:
’’ ان قرضوں سے سود حاصل کرنا ہمار ا مقصد نہیں بلکہ تعلیم میں تعاون مقصودہے‘‘
سوال:۲- سرکاری بینک عام معمول کے برخلاف تعلیمی قرضوں میں کم شرح سود لیتے ہیں، اور یہ قرض زیادہ مدت کے لیے دیا جاتا ہے، نیز حکومت کا ادّعا ہے کہ اس قرض کا مقصد نفع کمانا نہیں، تو کیا اس کم شرح سود کو سروس چارج (اُجرتِ خدمت) پر محمول کیا جاسکتا ہے؟
جواب:۲- جواباً عرض ہے کہ سودی قرض صرف بوقتِ ضرورت اور وہ بھی بقدرِ ضرورت ہی لیا جاسکتاہے(۳)،اور ضرورت وہی ہے جسے فقہائے کر ام نے ضرورت قرارد یا ہے(۴)۔ اوراعلیٰ تعلیم ایسی ضرورت نہیں ہے، جس کے لیے سودی قرض لینا جائز ہو، خواہ وہ کم شرح سود والا قرض ہی کیوں نہ ہو، کیوں کہ حرام قلیل ہو یا کثیر، حرام ہوتاہے،اوراس سے بچنا فرض ہے۔(۵)