زانیوں کو سزا دینے کے لیے شرعی قانون نافذ کریں!
’’دہلی گینگ ریپ کا معاملہ سامنے آنے کے بعد اکھل بھارتیہ ہندو مہا سبھا کے سینئر نائب صدر اور وشو ہندو سینا کے صدر سوامی اوم جی نے کہا کہ زانیوں کو سزا دینے کے لیے شرعی قانون لاگو کیا جانا چاہیے، انہوں نے مزید کہا کہ جیسے اسلامی قانون میں زانی کو سزا دی جاتی ہے ویسے ہی ہندوستان میں بھی لاگو کیا جائے، اور اس کے لیے پارلیمنٹ میں ترمیمی بل لایا جائے، انہوں نے کہا اس معاملہ میں سعودی عرب میں جو سزا دی جاتی ہے وہی سزا ہندوستان میں بھی لاگو کی جائے، سوامی اوم جی کے مطابق انہوں نے اراکین پارلیمنٹ سے اس سلسلے میں گفتگوکی ہے ، اور وہ بھی اس بات سے اتفاق کرتے ہیں، سوامی اوم جی نے کہا میں جلد سپریم کورٹ میں درخواست داخل کروں گا اور مطالبہ کروں گا کہ عدالت اس تعلق سے حکومت کو ہدایت دے۔‘‘
خلاصۂ تحریر یہ کہ اگر ہم یہ چاہتے ہیں کہ جرائم کا انسداد ہو ، اور مذکورہ واقعہ کی طرح مزید واقعات رونما نہ ہوں ، تو ہمیں سنجیدگی کے ساتھ اُن تمام ذرائع پر غور وفکر کرکے اُن پر بھی پابندی لگانی ہوگی ، جن کی وجہ سے آئے دن اس طرح کی وارِدات سامنے آرہی ہیں ، کیوں کہ جب تک جرائم کے ذرائع پر پابندی نہیں لگائی جاتی اس وقت تک اُن کی روک تھام ممکن ہی نہیں، اسلامی قوانین میں یہ قاعدہ مشہور ہے کہ :’’ حرام کام کا ذریعہ بھی حرام ہے‘‘ اور ’’ ممنوع کا سبب بھی ممنوع ہے‘‘- ’’ الوسیلۃ إلی الحرام حرام ‘‘ - اور ’’ ما کان سببا لمحظور فہو محظور ‘‘ ۔ (بدائع ، شامي)
اسی لیے شرعی قوانین میں معصیتوں کے ذرائع کو بھی معصیت قرار دیا گیا ہے، اور یہی اس کا وصفِ امتیازی ہے، جس کی وجہ سے وہ جہاں بھی اور جس حد تک بھی نافذ ہیں،