{ومما رزقناہم ینفقون}۔اور جو کچھ ہم نے ان کو دیا ہے اس میں سے خرچ کرتے رہتے ہیں۔ (سورۃ البقرۃ:۳)
{وابتغ فیمآ اٰتاک اللّٰہ الدار الاٰخرۃ ولا تنس نصیبک من الدنیا}۔اور جو کچھ تجھے اللہ نے دے رکھا ہے اس میں عالمِ آخرت کی بھی جستجو کر، اور دنیا سے (بھی) اپنا حصہ فراموش مت کر۔ (سورۃ القصص : ۷۷)
اور اس نے اسے انسان کے منافع کے لیے عطا فرما یا ہے ، اس تعلیم کے ساتھ وہ اپنی ذات اورمتعلقین کے ساتھ ساتھ سماج کے دیگر افراد کے لیے اپنے مال میں دینی ذمہ داری محسوس کرے۔{وفيٓ أموالہم حق للسآئل والمحروم}۔اور ان کے مال میں حق رہتا تھا سوالی اور غیر سوالی (سب) کا۔ (سورۃ الذاریات :۱۹)
تحصیلِ مال کے طریقوں سے متعلق اسلامی نقطۂ نگاہ :
۱؍ اس کے لیے محنت وعمل ہو۔{وابتغوا من فضل اللّٰہ}۔اور اللہ کی روزی تلاش کرو۔ (سورۃ الجمعۃ :۱۰)
حدیث پاک میں وارد ہے:’’ طلب کسب الحلال فریضۃ بعد الفریضۃ ‘‘ ۔ رواہ البیہقي في شعب الإیمان ۔حلال کمائی کا طلب کرنا فرائضِ خمسہ کے بعد ایک فریضہ ہے۔ (مشکوۃ:ص/۲۴۲)
۲؍ مزدور کو اس کی پوری اجرت دی جائے، اور اجرت دینے میں تاخیر نہ کی جائے۔ قال رسول اللّٰہ ﷺ : ’’ ثلاثۃ أنا خصمہم یوم القیامۃ ؛ رجل أعطی بي ثم غدر ، ورجل باع حرًّا فأکل ثمنہ ، ورجل استأجر أجیرًا فاستوفی منہ ولم یوفہ أجرہ ‘‘ ۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشادہے :( حدیث قدسی ہے کہ)