حکومتِ وقت نے چند ہفتوں پہلے، ۱۶؍ سال قبل بنائے گئے ترمیم شدہ قانون (مہاراشٹر اینمل پریزرویشن ایکٹ ۱۹۹۵ء) کو ریاستی گورنر کی سفارش کے ساتھ صدرِ مملکت کو روانہ کیا، اور صدرِ جمہوریہ نے اس پر منظوری کی دستخط ثبت کردی، اور اب یہ قانون مہاراشٹر بھر میں نافذ بھی ہوچکا ہے، جس کے متعلق ہائی کورٹ کے جسٹس وی ایم کناڈے اور جسٹس اے آر جوشی پر مشتمل بینچ نے کہا :
’’مہاراشٹر کے تحفظ ماویشین(ترمیمی) قانون جس کے تحت - گائے اور نرگائو کے ذبیحہ پر پابندی عائد کی گئی ہے ، اور نافذ العمل ہوچکا ہے، کیوں کہ سرکاری گزٹ میں اس کا اعلامیہ شائع کیا گیا ہے، جسٹس کناڈے نے کہا کہ - چوں کہ قانون نافذ ہوچکا ہے، عہدے دار جولائی سے اس بات کے پابند ہوں گے کہ اگر گائے اور نر گاؤ کا ذبیحہ کیا جائے، تو خاطیوں کے خلاف کارروائی کی جائے، انہوں نے کہا کہ اس معاملے کو مذہبی یا اَنا کا مسئلہ نہیں بنانا چاہیے۔‘‘ (بشکریہ: ترجمانِ اُردو مالیگاؤں ، ۱۰/۳/۲۰۱۵ء)
ہم ہندوستانی ہیں، عدالت کے فیصلے ہمارے نزدیک قابلِ احترام وتسلیم ہیں، مگر عدالت کا عوام کو یہ مشورہ دینا کہ -:
’’اس معاملے کو مذہبی یا اَنا کا مسئلہ نہیں بنانا چاہیے‘‘
سمجھ سے بالا تر ہے، کیوں کہ اس قانون کے وجود میں آنے کا محرک وسبب - وہ تشدُّد پسند تحریکیں اور تنظیمیں ہیں، جن کے اپنے مخصوص افکارونظریات ہیں، اور وہ اِن افکار ونظریات کو اِس قانون کے سہارے دیگر اہلِ مذاہب پر تھوپنا چاہتی ہیں، اور انہی تنظیموں نے اس قانون کی تجویز کو اپنے مذہبی عقیدے سے جوڑ کر اُس کے نفاذ کو اپنی اَنا کا مسئلہ بنایا ہوا ہے۔ تو جب ایک فریق نے کسی چیز کو اپنے عقیدے سے جوڑ کر اس