’’ تعلموا العلم وعلموہ الناس‘‘ اور ’’ طلب العلم فریضۃ علی کل مسلم ‘‘سے مفہوم ہوتا ہے۔ تو گشت کے ذریعے بھی لوگوں کو جمع کیا جاتا ہے، اور پھر ان کو دین کی بات بتائی جاتی ہے،تو گشت کا مقصود لوگوں کو جمع کرکے دینی باتیں بتلانا ہے، اور فقہ کا قاعدہ ہے : ’’ حکم الوسائل حکم المقاصد‘‘( جو حکم مقاصد کا ہے وہی وسائل کا ہے) گشت کا مقصد دین کی دعوت ہے، تو اس کا ذریعہ ’’ گشت‘‘ بھی دین ہے، جیسے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں آج کی طرح دینی مدارس ، اساتذہ ، طلبہ ، کتابیں ، درس گاہیں، کمرے اور مطبخ وغیرہ جن کا ہم انتظام کرتے ہیں، یہ چیزیں کہاں تھیں؟ یہ سب دین سیکھنے ، سکھانے، عمل کرنے اور اس کی اشاعت کے لیے اختیار کی گئیں ، جو سراسر خیر ہیں، تو ایسے ہی عملِ گشت بھی سراسر عملِ خیر ہے۔
۷- ساتواں اعتراض یہ کیا جاتا ہے کہ کیا تبلیغ فرض ہے؟
جواباً عرض ہے کہ تبلیغِ دین ہر زمانے میں فرض ہے، اور موجودہ زمانے میں بھی فرض ہے، لیکن فرضِ کفایہ ، جہاں جتنی ضرورت ہو اسی قدر اس کی اہمیت ہوگی، اور جس میں جیسی اہلیت ہو اس کے حق میں اسی قدر ذمہ داری ہوگی،جیسا کہ :{ولتکن منکم أمۃ یدعون إلی الخیر ویأمرون بالمعروف وینہون عن المنکر} ۔ (آل عمران :۱۰۴)سے مستفاد ہوتا ہے۔
لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ ہمارے بعض ساتھیوں کی طرف سے احکامِ دینیہ سے ناواقفیت کی بنا پر ایسی باتیں بھی سننے کو ملتی ہیں کہ تبلیغ ہی دین ہے،جب کہ بات ایسی نہیں ہے، صحیح بات یہ ہے کہ تبلیغ بھی دین ہے،کیوں کہ دین کا ہر کام دین ہے، محض دین کے کسی ایک کام پر دین کا انحصار کرنا غلط اور نادانی