لم تفُتہ التکبیرۃ الأولی کتب اللّٰہ لہ برأتین : برأۃ من النار وبرأۃ من النفاق ‘‘ ۔ (سنن ترمذي ، جمع الفوائد)(جو شخص چالیس روز تکبیرِ اولیٰ سے نماز باجماعت پڑھتا ہے، اللہ پاک اس کے لیے دو برأتیں لکھ دیتے ہیں، ایک جہنم سے برأت ، دوسری نفاق سے برأت۔)
نیز آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد: ’’ من أخلص أربعین یومًا ظہرت ینابیع الحکمۃ من قلبہ علی لسانہ ‘‘ ۔( جس نے چالیس روز اخلاص کا معاملہ کیا ، اس کے دل سے اس کی زبان پر حکمت کے چشمے جاری ہوجاتے ہیں۔)
۵- پانچواں اعتراض یہ کیا جاتا ہے کہ جماعت والے کسی بھی معمولی اُردو خواں شخص کو جماعت کا امیر بناتے ہیں، جو نہ عالم ہوتاہے، نہ کسی مدرسے کا فارغ ؟
جواباً عرض ہے کہ جب فرائضِ خمسہ کی امامت کے لیے ایسا شخص موجود نہ ہو ، جس میں امامت کی اعلیٰ صفات پائی جاتی ہوں، تو بدرجۂ مجبوری کم درجے کے آدمی کوامام بنایا جاتا ہے، اسی طرح جب جماعت میں امارت کے لیے ایسا آدمی موجود نہیں ہوتا، جس میں اعلیٰ صفات موجودہوں ، تو کم درجے والے کو امیر بنادیا جاتا ہے، اورجیسے پہلی صورت میں آپ امامت کو ناجائز نہیں کہتے، ایسے ہی دوسری صورت میں امارت کو ناجائز نہیں کہہ سکتے۔
۶- چھٹا اعتراض یہ کیا جاتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کے عہد مبارک میں لوگ کہاں تبلیغی گشت کرتے تھے؟
جواباً عرض ہے کہ اس پر تو تمام مسلمانوں کا اتفاق ہے کہ لوگوں میں دین کی طلب اور اس پر عمل کا جذبہ پیدا کرنا دین وعبادت ہے،جیسا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد :