اس کا جواب یہ ہے کہ دین کا سیکھنا سکھانا اور اس پر عمل کرنا فرض ہے، اب اسی دین کو سیکھنے کے لیے بعض لوگوں کے لیے سہولت اس میں ہے کہ وہ مدارسِ دینیہ میں داخل ہوکر باقاعدہ پورا نصاب پڑھیں ، تو وہ یہی صورت اختیار کریں،اور جس کے پاس اتنا وقت نہیں ، یا اتنی مالی وسعت نہیں ، یا عمر زائد ہوچکی ہے، یاحافظہ وذہن ایسا نہیں، تو خواہ خود آہستہ آہستہ دین سیکھے، کتابیں پڑھ کر، تقریر سن کر، تبلیغ میں نکل کر، چنانچہ لوگ اپنے اپنے اعتبار سے وقت لگاتے ہیں ، کوئی ایک دن ، کوئی دو دن، کوئی تین دن، کوئی دس دن، کوئی چالیس دن، کوئی چار ماہ، کوئی ایک سال، کوئی تین سال ، جس کو جتنا وقت ملا وہ نکلا۔
اب رہی یہ بات کہ چلہ کی دین میں کوئی اصل ہے یانہیں؟ اس کاجواب یہ ہے کہ چلہ کی اصل دین میں موجود ہے، جیسا کہ’’ صحیح بخاری‘‘ میں ہے کہ نطفہ ماں کے رحم میں چالیس روز گزرنے پر علقہ بنتا ہے، پھر چالیس روز گزرنے پر مضغہ ، پھر چالیس روز گزرنے پر اس کی روزی ، اس کی عمر، موت ، شقی وسعید لکھا جاتا ہے، اس سے معلوم ہوا طبیعت کی تبدیلی میں چلہ کو بڑا دخل ہے۔
(عن) عبد اللّٰہ بن مسعود قال : حدثنا رسول اللّٰہ ﷺ - وہو الصادق المصدوق - : ’’ إن خلق أحدکم یجمع في بطن أمہ أربعین یومًا ، ثم یکون مضغۃ مثل ذلک ، ثم یبعث اللّٰہ إلیہ ملکًا فیؤمر بأربع کلمات فیکتب رزقہ وأجلہ وعملہ ، ثم یکتب شقي أو سعید ، ثم ینفخ فیہ الروح ‘‘ ۔ الحدیث ۔ متفق علیہ ۔ (سنن أبي داود)
اسی طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد :’’ من صلی أربعین یومًا في جماعۃ